تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 101 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 101

92 منبع دنیا کے بڑے اور طاقتور لوگ نہ تھے۔بلکہ اس کو اپنی ہی باطنی روحانی طاقت کی وجہ سے قوت اور اقتدار حاصل ہوا۔اسی طرح کون کہہ سکتا ہے کہ یہ چھوٹی سی مسجد جس کی رسم افتتاح آج ادا ہو رہی ہے۔اپنے اس مبارک کام کی کامیابی کے لئے، بغیر ظاہری سامان شان و شوکت اور اقتدار کے، پوری طاقت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی۔باوجود اس عزت کا پورا احساس ہونے کے جو مسجد کی منتظمہ کمیٹی نے مجھ کو رسم افتتاح کی ادائیگی کے لئے کہہ کر دی ہے۔میں نے اس فرض کی سرانجام دہی کو جو میرے سپرد کیا گیا ہے بلا تامل اپنے اوپر نہیں لیا۔اوّل تو میرے جیسا ایک عاجز انسان ایک شہزادے کا ادنی بدل ہوسکتا ہے۔دوسرے میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں۔جو رسوم کی ادائیگی کیا کرتے ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں۔کہ اس قسم کے کاموں سے اشاعت خوب ہو جاتی ہے۔اور اشاعت ایک ایسی چیز ہے۔جس کو موجودہ زمانہ میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر اس طرح رسم افتتاح ادا نہ کی جاتی۔اور پھر میں نے بھی اس میں اس قدر دلچسپی نہ لی ہوتی۔تو یقیناً لنڈن جیسے بڑے شہر میں یہ چھوٹی سی مسجد جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔باوجود اس خوبصورتی کے جو اس کی سادہ طرز تعمیر میں ہے۔گوشئہ گمنامی میں رہتی۔ایک لحاظ سے یہ امر میرے لئے خصوصیت سے موجب مسرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے لنڈن کی ایک مسجد کی رسم افتتاح میں شامل ہونے کی توفیق دی ہے بیس (20) سال کا عرصہ ہوا۔کہ جب میں لنڈن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔تو مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ان مسلمانوں کے لئے جو لنڈن میں سکونت رکھتے یا بغرض سیاحت آتے ہیں۔ایک مسجد ہونی چاہیے۔نماز عیدین کے لئے جو کہ مسلمان کھلے طور پر پبلک باغوں (پارک) میں ادا کرتے تھے ایک موقع پر جب مجھے امامت کا شرف