تواریخ مسجد فضل لندن — Page 8
6 بنیاد قائم کر کے مشرق اور مغرب۔سیاہ اور سفید غرض ہر قوم اور نسل کے طالبانِ حق کو ایک نقطہ اتحاد پر جمع کرے۔اور اس بابرکت مقام سے ازلی اور ابدی صداقتوں کی اشاعت کرے۔جن پر انسان کی تمام روحانی ،اخلاقی علمی اور مادی ترقیوں کا مدار ہے۔( دین حق کو خدا نے اس لئے دُنیا میں نہیں بھیجا تھا کہ وہ ایک راز سربستہ رہے۔مشیت الہی یہ تھی کہ یہ مذہب تمام عالم کے لئے ہے اور جبر سے نہیں بلکہ اپنے حسن و جمال و سچے دلائل کے اثر سے دلوں میں داخل ہونے کے لئے بنایا گیا ہے۔اس کا خدا حقیقی خدا ہے۔جو اپنی ذات وصفات میں یکتا تمام خوبیوں کا منبع تمام حُسنوں کی کان اور تمام احسانات کا سرچشمہ ہے۔اس کی محبت تو الگ اس کی سزا بھی رحم اور محبت پر مبنی ہے۔پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خود بندہ سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔وہ بندہ سے وصل و تعلق کا اس سے زیادہ طالب ہے جتنا بندہ خدا سے وصل کا۔وہ ہر شخص سے ہم کلامی کو تیار ہے بشرطیکہ بندہ اس سے کلام کرنے کی اہلیت حاصل کرے۔پھر ( دین حق ) کے تمام عقائد ایسے پاکیزہ ہیں کہ عقلِ سلیم ہر وقت ان کے ماننے کو مستعد ہے۔کوئی عقیدہ یا عمل ( دین حق ) کا علوم صحیحہ اور عقل سلیم کے مخالف نہیں۔اسی طرح (دینی) عبادات۔(دینی) روحانیات (دینی) معاملات ،(دینی) معاشرت و رسومات۔(دینی) اخلاق (دینی) نجات (دینی) احکام حلال و حرام (دینی) طہارت (دینی) سیاست (دینی) تہذیب و تمدن ، (دینی) تعزیرات غرض ہر شعبہ ایسا پاک بے عیب اور عالی شان ہے کہ بے اختیار زبان پر یہی آتا ہے۔ز فرق تا بقدم ہر کجا کہ مے نگرم کرشمہ دامن دل میکشد که جا اینجاست