تأثرات — Page 372
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب۔ربوہ: بے کل بے کل پھرتے ہیں کیوں سب عالم کے لوگ پالن ہار نے ہم کو دی ہے جینے جینے کی تدبیر ایک صدی تک بانٹا ہم نے اُلفت کا اور محبت کی خیرات دنیا کی آج خلافت اپنا دھن ہے اور اثاثہ پریم ہم دل والوں پر ہے اتری پیار کی جاگیر خلافت کی اطاعت میں تسلیم خم رکھنا وفا کے پاسباں رہنا کا علم رکھنا مولی شهیدان مولی اسیران ره نقش قدم رکھنا نشان ره ہر دم سوئے منزل یہی گئے سو سال میں ہم کو ملی ہیں برکتیں نئے سو سال میں یا رب وہی لطف و کرم رکھنا مکرم محمد مقصود احمد صاحب منیب۔ربوہ: ہاتھ وہ عام ہم نے جس ہاتھ نے بھی ٹوٹ اُس نے بھی نہیں ہے مام ہے اُس کو ل مادل میرے ذکر تو ہر میرا ہر ہو قصیده یا 334 کھل کے کی ہے ☆ میں ہو ذکر ترا ہو قیامت کا بھی شاعر کا تمھاری شان میں ہو