تأثرات — Page 221
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 196 بیعت وہ یونانی نومبائع زار و قطار رو رہا تھا وہاں مختلف اقوام کے احباب جماعت کی آنکھیں بھی آنسو بہا رہی تھیں اور بعض کی تو ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ہر ایک کیا نوجوان کیا بوڑھا، کیا سرخ اور کیا سفید ، کیا گورا اور کیا کالا ہر کوئی اپنے پیارے آقا پر فدا ہورہاتھا اور اپنا سب کچھ نچھاور کیے بیٹھا تھا۔آئس لینڈ (Iceland) کے وفد سے ملاقات : 25 اگست 2008ء کو حضور انور نے آئس لینڈ (Iceland) سے آنے والے غیر مذاہب سے تعلق رکھنے والے گیارہ افراد پرمشتمل ایک وفد کو شرف ملاقات بخشا۔آئس لینڈ سے پہلی بار آنے والے اس وفد میں مصنفین ، ٹیچر، صحافی، جرنلسٹ ، اخباری فوٹو گرافر اور فائن آرٹس کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔وفد کے ان ممبران پر جلسہ کی برکات نمایاں طور پر واضح ہو رہی تھیں کہ یہ خواتین جلسہ کے دوران شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس دکھائی دے رہی تھیں اور ایک نوجوان نے خدام الاحمدیہ والا مخصوص رو مال خرید کر اپنی گردن کی زینت بنایا ہوا تھا۔پھر جب حضور انور نے وفد سے جلسہ کے بارے میں ان کے تاثرات دریافت فرمائے تو انہوں نے کہا کہ : بہت ہی دوستانہ اور پُر امن ماحول تھا۔ہر طرف محبت واخوت تھی۔حضور انور کی تقاریر اور خطابات پُرمغز اور بہت اچھی تھیں۔ان خطابات نے ہم پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔حضور نے جہاد کے موضوع پر جو خطاب فرمایا ہے اس نے ہم کو بہت متاثر کیا ہے اور ایسی باتیں اور اسلام کی یہ تعلیم ہم نے پہلے کبھی نہیں سنی۔“ الفضل انٹر نیشنل - 7 تا 13 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 16) ایک صحافی Mr۔Jon Bjarki Magnusson نے آئس لینڈ پہنچتے ہی اخبار میں ایک آرٹیکل بھجوایا اور جماعتی نمائندے کو اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ☆ یہ ہمارے لیے خوش کن تجربہ تھا کہ صاف دل لوگوں کا ایک جگہ پر یکجا ہونے کا مشاہدہ اور احساس کر سکیں۔مجھے اس دوران اپنے آپ کو جاننے اور جماعت احمد یہ کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔حضرت خلیفہ اسیح سے ملاقات میرے لیے ایک حیرت انگیز احساس تھا۔میں نے پایا کہ وہ ایک نیک انسان ہیں۔ایک عام انسان لیکن عظیم روحانی قوتوں کے حامل۔یہ میری زندگی کا ایک عظیم تجربہ تھا جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔“ الفضل انٹرنیشنل 7 تا 13 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 11)