تأثرات

by Other Authors

Page 132 of 539

تأثرات — Page 132

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 120 پاکستان میں بھی احمدیوں کے خلاف قوانین بنائے گئے لیکن ہم نے کبھی سڑکوں پر آکر احتجاج نہیں کیا۔“ الفضل انٹر نیشنل 11 جولائی تا17 جولائی 2008ء صفحہ نمبر 9) (2) ایک صحافی نے کہا کہ یہ سب کچھ اُن غلط فہمیوں کی بنا پر ہورہا ہے جو جماعت کے بارہ میں پھیلائی جاتی ہیں تو آپ ان غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کا غلط جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”ہمارا اعتقاد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق چودھویں صدی ہجری میں جس موعود نے آنا تھا وہ آچکا ہے اور ہمارا اعتقاد ہے کہ ہم آپ کی جماعت میں داخل ہیں۔جہاں تک بانی جماعت احمدیہ کے دعوی کا تعلق ہے تو آپ نبی ہیں لیکن بغیر کسی نئی شریعت کے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے اس بارہ میں فرمایا ہوا ہے کہ وہ مسیح و مہدی ہوگا۔“ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: یہی بات ہے جو نام نہاد علما کو تکلیف دیتی ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر مسلم امہ مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو قبول کرتی ہے تو پھر اُن کا لوگوں پر کچھ اختیار باقی نہیں رہے گا۔مجھے نہیں معلوم کہ ہم کس طرح اس صورت حال کو تبدیل کریں۔اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہم بانی جماعت کے دعوی سے ہٹ جائیں تو یہ تو نہیں ہوسکتا۔قرآن مجید وضاحت سے فرماتا ہے کہ مذہب میں جبر نہیں۔اگر وہ نہیں مانتے تو نہ مانیں لیکن اسلام کسی کو کسی شخص کے خلاف محض مذہبی اختلاف کی بنا پر تلوار کے استعمال یا جبر و تشدد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ہم نے کبھی انہیں مجبور نہیں کیا کہ وہ احمدی ہو جا ئیں اس لیے انہیں اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔“ (3 الفضل انٹر نیشنل 11 جولائی تا 17 جولائی 2008 صفحہ نمبر 9 و 10) دوسرے مسلمانوں کے لیے کیوں ممکن نہیں کہ وہ ایک خلیفہ بنائیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ” خلافت کا انسٹی ٹیوشن نبوت کے بعد جاری ہوتا ہے۔اگر وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی نبی آسکتا ہے تو وہ خلیفہ کیسے بنا سکتے ہیں؟ ایک دفعہ انہوں نے مان لیا کہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت منقطع ہو گئی ہے تو واضح ہے کہ اس کے بعد کسی نبی کے آنے پر ہی اس کے بعد خلافت قائم ہوسکتی ہے۔خلافت اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ ادارہ ہے۔اگر وہ خود اپنے پاس سے نبی بنانا چاہتے ہیں تو یہ ایک فضول کوشش ہوگی۔66 الفضل انٹر نیشنل 11 جولائی تا 17 جولائی 2008ء صفحہ نمبر 9 و10)