تأثرات — Page 58
52 تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء میں نے ابھی ایمان اور محبت بانٹنے کی بات کی تھی کہ یہ اس جماعت کا خاصہ ہے۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بفضلہ تعالیٰ ہمارے ملک میں بھی یہ دونوں چیزیں ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور ملک کی قابلیتوں پر ہمیں فخر ہے۔ہمارا آئندہ آنے والی چیزوں پر بھی ایمان ہے اور جب سے ہمارے ملک میں ڈیموکریسی آئی ہے یہ ملک درجہ بدرجہ عالم گیر شخصیات میں مشہور ہونے لگا ہے اور یہ اہم شخصیات ہمارے ملک کا دورہ کرنے لگی ہیں۔یہ بھی ہمارے ملک کی امن پالیسی پر ایک دلیل ہے۔میں حضرت اقدس کا بھی نہایت ممنون ہوں کہ انہوں نے ہمارے ملک کو امن پسند ممالک میں سے گردانا ہے اور ہمارے ہاں وزٹ کا شرف بخشا۔ہمارا ملک اگر چہ بڑا نہیں ہے اور ہماری عوام بھی تھوڑی ہے مگر بین اللہ پر ایمان رکھنے والا ملک ہے جس کے لوگوں میں قابلیت ہے اور میں بھی آپ میں سے ایک خوش نصیب ہوں جو اس محفل میں ایک گواہ کے طور پر کھڑا ہوں۔گورنمنٹ آف بین آپ کے یہاں آنے پر بہت خوش ہے اور گورنمنٹ اس بات کی شدید خواہاں ہے کہ حضور ، حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کو ہم مہینوں ہی نہیں بلکہ سال ہا سال بہت لمبے عرصہ تک اپنے پاس رکھیں کیونکہ بعض شخصیات تو دنیا میں ایسی آتی ہیں جن کے کہیں بھی قدم رنجہ فرمانے سے اس سرزمین کی کایا پلٹ جاتی ہے اور بعض وجود تو واقعی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی برکت سے قوموں کا علم و معرفت اپنی ترقیات کی منازل طے کرنے لگتا ہے اور ان کی موجودگی سے قومیں عزت پاتی ہیں اور ان تمام صفات عالیہ کی حامل آنجناب حضرت اقدس کی ذات بابرکات ہے۔اسی لیے تو ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ حضور اقدس ہمارے پاس ایک لمبا عرصہ رہیں مگر رنجیدہ ہیں اس خبر سے کہ آپ کل واپس تشریف لے جارہے ہیں مگر پھر بھی مجھے یقین کامل ہے کہ ہم اس سرزمین پر آپ کا دوبارہ استقبال کریں گے۔میں بین کی عوام کی طرف سے اور ان تمام مذہبی جماعتوں کے نمائندگان اور اتھارٹیز کی طرف سے جو یہاں پر موجود ہیں حضور اقدس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور ان کی جماعت کا بھی دلی مشکور ہوں جس نے مذاہب کے درمیان مرکزی کردار ادا کیا ہوا ہے اور تمام مذاہب کے نمائندگان ان کی وجہ سے آج یہاں پر حاضر ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ ان سب کے عالم گیر روحانی پیشو بہ نفس نفیس یہاں رونق افروز ہیں۔میری دلی تمنا ہے کہ جو برکات بھی ہم نے یہاں سے پائی ہیں اور جو ہم خدائے پروردگار