تأثرات — Page 220
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 195 اس وفد کے ساتھ ایک غیر از جماعت پاکستانی دوست اپنی بوزنین اہلیہ کے ساتھ جلسہ میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: ” یہاں آکر میری وہ سب غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں جو میرے دل میں جماعت احمدیہ کے متعلق تھیں۔“ (الفضل انٹر نیشنل۔31اکتوبر تا7 نومبر 2008ء۔صفحہ نمبر 12) مقدونیا (Macedonia) کے تین افراد پرمشتمل وفد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ان سب ممبران نے پہلی بار جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی سعادت پائی تھی۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: جلسہ بہت اچھا لگا۔ہر چیز بہت اچھی تھی۔انتظامات بہت عمدہ تھے۔اتنی بڑی تعداد تھی لیکن سب کام خوش اسلوبی سے جاری تھے۔“ الفضل انٹر نیشنل۔31 اکتوبر تا 7 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 12) ایک جرمن احمدی دوست طارق گڑٹ صاحب سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ اس بار اور پچھلی بار کے جلسہ سالانہ میں کیا فرق دکھائی دیا ؟ تو مکرم طارق گڈٹ صاحب نے کہا کہ : امسال کا جلسہ سالانہ خلافت جوبلی کا جلسہ ہونے کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل جلسہ ہے اور لوگوں میں خلافت کا شعور بڑھا ہے۔“ (الفضل انٹر نیشنل۔31 اکتوبر تا7 نومبر 2008ء۔صفحہ نمبر 13) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ یہاں سب سے نیا احمدی کون ہے؟ اس پر ایک نوجوان دوست کھڑے ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق ملک یونان (Greece) سے ہے ان کا نام Konstantions Zerdalis ہے۔وہ ایک لمبے عرصہ سے جرمنی کے ایک شہر Duisburg میں آباد ہیں اور ایک عرصہ سے حق کی تلاش میں تھے انہوں نے کہا کہ : مجھے میرے سوالوں کے جواب نہیں ملتے تھے۔میں نے کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھی اور احمدی دوستوں سے ملا۔اب جلسہ جرمنی میں شامل ہوا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقاریر سنیں اور خصوصاً جہاد کے موضوع پر جرمن مہمانوں سے خطاب سنا۔اب مجھے میرے سب سوالوں کے جواب مل گئے ہیں اور میں اسی وقت ابھی بیعت کے لیے تیار ہوں۔66 الفضل انٹر نیشنل۔31 اکتوبر تا 7 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 13) چنانچہ اس نوجوان نے اسی وقت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بیعت فارم پر کیا اور وہیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی سعادت پائی۔وہ منظر بڑا رقت آمیز تھا کیونکہ دوران