تأثرات — Page 208
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء شان سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔وہ اُسوہ ان کے سامنے ہوگا جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ پر اونٹ کے کجاوے پر سجدہ ریز ہوتے ہوئے قائم فرمایا تھا۔لیکن یہ بھی ہمیں یا درکھنا چاہیے کہ اس سجدہ شکر کے حصول کے لیے ہمیں اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر دن کو سجدوں سے سجانا ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے تمام دوریوں کے باوجود تمام پابندیوں کے باوجود ہم پر یہ احسان فرمایا ہوا ہے کہ ایم۔ٹی۔اے کا ایک ذریعہ ہمیں عطا فرمایا ہے جس سے کچھ حد تک تو پاکستان کے رہنے والے یا اُن ملکوں کے رہنے والے جہاں ہم آزادی سے جلسے نہیں کر سکتے یہ دیکھ کر اپنی پیاس بجھا لیتے ہیں۔پاکستان کے محروم احمدی ٹی وی سکرین پر جلسہ کے نظارے دیکھ لیتے ہیں، دُعاؤں میں شامل ہو جاتے ہیں۔بعض باقاعدہ جلسہ کا ماحول بنا کر گھروں میں وہی لنگر خانہ کی طرز کے کھانے ، آلو گوشت اور دال وغیرہ پکاتے ہیں اور اپنے دل کی حسرت کسی حد تک پوری کر لیتے ہیں لیکن ایک طرف کی اُن کی حسرت تو پوری ہو جاتی ہے۔بغیر موجودگی کے کچھ نہ کچھ حد تک ان کی کمی پوری ہو جاتی ہے لیکن میری جوان کو دیکھنے کی خواہش ہے وہ سکرین کی آنکھ سے پوری تو نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے تصور کی آنکھ سے میں بھی وہ نظارے دیکھ لیتا ہوں جب خطوں میں اُن نظاروں کا، ان جلسوں کا بڑی تفصیل سے ذکر ہوتا ہے۔184 بہر حال اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ وہ دنیا کے ہر ملک کے احمدی کو جلسہ میں ایم ٹی اے کی وساطت سے شامل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔پس خاص طور پر پاکستانی احمدیوں کو اس شکر گزاری کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکنے والا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق دے۔بہر حال بات تو جلسہ یو۔کے۔سے شروع ہوئی تھی اور آج اسی کی ہونی ہے لیکن محرومی کے حوالے سے پاکستان کا ذکر شروع ہو گیا۔“ (خطبہ جمعہ یکم اگست 2008 ء فرمودہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس الفضل انٹرنیشنل 22 تا 28 اگست 2008ء صفحہ نمبر 5 و6) عالمی بیعت: جلسہ سالانہ برطانیہ کے دوسرے دن عالمی بیعت کا نظارہ ایک بار پھر ساری دنیا کو ایم۔ٹی۔اے کی آنکھ کے ذریعہ دکھایا گیا جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سبز کوٹ زیب تن کیے تشریف لائے اور آپ کے سامنے پانچ قطاروں میں احباب جماعت بیٹھے اور عالمی بیعت کا رُوح پرور