تأثرات — Page 113
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء خَوْفِهِمْ اَمُناط کا نظارہ دیکھا۔وہ عظیم انقلاب جو آپ نے اپنی بعثت کے ساتھ پیدا کیا تھا اُسے اللہ تعالیٰ نے خلافت کے عظیم نظام کے ذریعہ جاری رکھا۔آپ کی وفات پر اخبار وکیل میں مولانا ابوالکلام آزاد نے یوں رقم فرمایا: وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو! وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا! جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی ! جس کی اُنگلیوں سے انقلاب کے تاراً لجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں ! وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لیے تمہیں برس تک زلزلہ اور طوفان رہا! جو شور قیامت ہو کے خفتگانِ خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مٹانے کے لیے اِسے امتدادِ زمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جائے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دُنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دُنیا میں نہیں آتے۔یہ نازشِ فرزندان تاریخ بہت کم منظرِ عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دُنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔“ (اخبار وکیل۔امرت سر۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 560) پس اس انقلاب کا اعتراف غیروں کی زبان اور قلم سے نکلوا کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کا خاص تائید یافتہ تھا لیکن غیر کی نظر اس طرف نہ گئی کہ وہ تائید یافتہ جس انقلاب کو بر پا کر گیا ہے اس انقلاب کو آپ کی پیروی کرنے والوں کے ذریعہ سے نعمت خلافت کے ذریعہ جاری رکھنے کا بھی اس ذو العجائب اور قدیر ہستی کا وعدہ ہے اور اس کی تصدیق ہوتے ہوئے ایک دُنیا نے حضرت مولانا نورالدین۔خلیفہ اسیح الاوّل کے انتخاب خلافت کے وقت دیکھا۔باوجود اس کے کہ مخالفین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ ایک منظم جماعت کو دیکھ رہے تھے۔باوجود اس کے کہ وہ خلافت کے قیام کا نظارہ دیکھ چکے تھے لیکن اُنہوں نے جماعت کو اُس جماعت کو جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قائم کردہ جماعت تھی ایک منظم کوشش کے تحت توڑنے کی کوشش کی ، جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا: ”اُذْكُرُ نِعْمَتِي غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِي “ ترجمہ: میری نعمت کو یاد کر۔میں نے تیرے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور اپنی قدرت کا درخت لگا دیا ہے۔(تذکرہ صفحہ 428) پس اس وعدہ کے مطابق وہ ہمیشہ کی طرح ناکام ہوئے۔گو کہ یہاں تک مخالفت کی شدت میں بڑھے کہ ایک اخبار نے لکھا: ہم سے کوئی پوچھے تو ہم خدا لگتی کہنے کو تیار ہیں کہ مسلمانوں سے ہو سکے تو مرزا کی کل کتابیں سمندر میں نہیں کسی جلتے ہوئے تنور میں جھونک دیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ 103