تأثرات — Page 64
58 تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء والے اپنی خوش بختی پر نازاں و فرحاں دکھائی دے رہے تھے۔سرحد پر مکرم و محترم امیر صاحب نایجیریا، مکرم ومحترم مبلغ انچارج صاحب نائیجیریا اور دیگر جماعتی عہدے داران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال کے لیے موجود تھے جن سے ملاقات کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ او جوکورو (Ojokoro) مشن ہاؤس کے لیے روانہ ہوا۔نائیجیرین پولیس کی گاڑی حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے قافلے کو Escort کر رہی تھی۔تمام راستوں پر پولیس کے ساتھ ساتھ خدام الاحمدیہ نے ٹریفک کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا۔رستے میں احمدی مردوزن ، کیا لڑکے اور لڑکیاں اور بوڑھے اور جوان استقبال میں دو (2) رو یہ کھڑے تھے۔ان کے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھیں جن کو لہرا لہرا کر وہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو نائیجیریا میں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔جیسے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی گاڑی ان کے قریب پہنچتی وہ نعرے بلند کرتے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے لیے پر جوش چہرے ان کی دلی خوشی کے غماز تھے۔احمدیہ مسجد Ipokia کا افتتاح او جوکور ومشن ہاؤس جاتے ہوئے رستے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ Ipokia میں بننے والی نئی مسجد کا افتتاح کرنے کے لیے چند لمحے رُکے۔اس قصبے میں عشاق استقبال کے لیے پہلے سے ہی چشم براہ تھے۔اس وجود باجود کے عشاق کی تعداد تو ان گنت ہے گویا: پا کچھ خاک ނ ہم کو عنایت ہو نقش پا ہو جائیں زیر بار! ذرا پھر ނ بولیے (محمد مقصود احمد منیب ) جیسے ہی اس شمع رخ انور نے قصبہ اپو کیا کو بقعہ نور بنا دیا تو منتظر پروانے اس کے ارد گرد جمع ہو گئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کی بیرونی دیوار پر نصب سختی سے نقاب اُٹھایا اور دعا کروائی۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے اندر تشریف لے گئے۔پروانے بھی لیکے جو دروازے سے اندر نہ جاسکا وہ کھڑکیوں کے رستے اندر گھس گیا۔ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ اپنے پیارے کو دیکھ کر ہجر کی آگ میں جلتی ہوئی اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکے۔ہر ایک عاشق اس عشق میں مخمور دکھائی دیا اور اپنے محبوب کے درشن کے لیے بے قرار نظر آیا لیکن ہر ایک کی ادا میں ایک وقار نظر آیا۔ان لوگوں کی کیفیت تو بیان سے ہی باہر ہے جو وہاں موجود تھے سماں ایسا دکھائی دے رہا تھا جیسے لوگ بزبان حال پکار پکار کر کہہ رہے ہوں : تو مے خواروں میں تیری ایک جھلک ایک نیا کہرام مچا کہرام کے بعد ( محمد مقصود احمد منیب )