تأثرات — Page 63
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 57 آنکھوں میں جدائی کی وجہ سے آنسو جھلملا رہے تھے ایسے میں جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مڑ کر سب کی طرف دیکھا تو سب کی آنکھوں میں یہ سوال تیر رہا تھا: اک نظر مر کے دیکھنے والے کیا خیرات پھر نہیں ہو گی؟ روانگی سے قبل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دُعا کروائی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ نعرہ ہائے تکبیر، احمدیت زنده باد، خلافت احمد یہ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں بینن سے نائیجیریا کے لیے روانہ ہوا۔پولیس کی گاڑی اور موٹر سائیکل Escort کر رہے تھے۔کیسا عجیب سماں تھا کہ بارڈر پر ایک طرف ہجر اور مفارقت کا سماں بندھ رہا تھا تو دوسری طرف دلوں میں وصل کے شادیانے بج رہے تھے۔بینن (Benin) والوں نے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ یہ عظیم الشان تحفہ ایک امانت کی صورت نائیجیریا کے احمدیوں کے سپر د کر دیا۔دونوں طرف دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنسو جگمگا رہے تھے۔بین والوں کی آنکھوں میں شکرانے کے آنسو کہ اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ ان سے راضی راضی رخصت ہوا تو اس میں اللہ کی رضا ہے اور نائیجیریا والوں کی آنکھوں میں اس قدر حسین وصل کی وجہ سے شکرانے کے آنسو۔نائیجیریا میں ڈرود مسعود: ، 28 اپریل 2008ء کا تاریخی دن! قریباً تین بجے سہ پہر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا قافلہ Idiroko بارڈر پر پہنچا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالی کی آمد سے قبل ہی بارڈر پر امیگریشن کا کام مکمل ہو چکا تھا۔امیر صاحب بین مبلغین سلسلہ احمدیہ بین ، ممبران مجلس عاملہ اور دیگر جماعتی عہدے داران اپنے محبوب آقا کو الوداع کہنے بارڈر تک آئے تھے۔سب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔اب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ تیار تھے کہ بین سے کوچ کا وقت آن پہنچا تھا۔نائیجیریا میں داخل ہوتے ہی نائیجیرین امیگریشن افسران نے حضور انو رایدہ اللہ تعالیٰ کا استقبال کیا اور شرف مصافحہ حاصل کیا۔نائیجیر یا جماعت کی کثیر تعداد استقبال کے لیے موجود تھی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی نائیجیریا کی فضا نعرہ ہائے تکبیر ، احمدیت زندہ باد، خلافت احمد یہ زندہ باد اور حضرت خلیفہ اسیح الخامس زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔لڑکے اور لڑکیاں مترنم آوازوں میں لا الہ الا اللہ کا ورد کر رہے تھے۔جیسے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بارڈر پار کر کے نائیجیریا کی سرزمین میں داخل ہوئے احباب جماعت دیوانہ وارد یدار کو لیکے۔ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے چہرہ مبارک کو کسی نہ کسی طرح ایک نظر دیکھ لے۔نعروں، استقبالیہ اور خیر مقدمی گیتوں اور جذبات محبت کے جلو میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا مسکراہٹیں بکھیر تا ہوا چہرہ اور نور بانٹتا ہوا شاداں و تاباں وجودنا بیجیریا میں قدم رنجہ ہور ہا تھا اور نائیجیریا