تأثرات — Page 517
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء میں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار ہے۔لیکن اس اظہار سے ہماری توجہ تقوی کی راہوں کی طرف پھر جانی چاہیے۔اگر یہ ظاہری شور شرابا تصنع اور بناوٹ اور پروگراموں میں دُنیا داری کے اظہار کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہے تو یہ عمل اس طرح قابل کراہت ہے جس طرح جلسہ سالانہ سے پاک تبدیلیاں پیدا کیے بغیر چلے فرمایا: جانایا کوئی بھی غیر صالح عمل ، جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے بغیر ہو۔پس آج کا دن ایک نیا عہد باندھنے کا دن ہے۔آج کا دن ہمیں اپنی تاریخ سے آگاہ کرنے کا دن ہے۔آج کا دن ہمیں اُس دن کی یاد دلانے کا دن ہے جب افراد جماعت پر آج سے سو سال پہلے ایک زلزلہ آیا تھا۔آج کے دن سے ایک دن پہلے ایک واقعہ ہوا جس نے جماعت کو ہلا کر رکھ دیا۔26 مئی 1908ء کا دن جب خدا کا پیارا مسیح موعود اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گیا۔اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ آپ کو ایک عرصہ سے دے رہا تھا جس کا ذکر آپ نے جماعت کے سامنے کرنا شروع کر دیا تھا اور رسالہ الوصیت میں بڑا کھل کر جماعت کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے ایمان اور تقوی میں بڑھنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی اور جماعت کو تسلی دی کہ یہ نہ سمجھنا کہ میرے جانے سے خدا کا تائیدی ہاتھ تم سے اُٹھ جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے میرے بعد بھی پورے ہوتے رہیں گے۔“ 478 الفضل انٹر نیشنل۔خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی نمبر۔25 جولائی تا7 اگست 2008ء صفحہ نمبر 4) اسی خطاب میں دشمنان احمدیت کو مخاطب کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ”اے دشمنان احمدیت ! میں تمہیں دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ۔ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مر جاؤ گے اور خلافت قائم نہیں کر سکو گے، تمہاری نسلیں بھی اگر تمہاری ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کر سکیں گی۔قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔خدا کا خوف کرو اور خدا سے ٹکر نہ لو اور اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کے سامان کرنے کی کوشش کرو۔یہ باتیں جو غیروں کے بارے میں میں نے بیان کیں صرف ہمارے لیے ان کی حسرتوں پر خوش ہونے کی وجہ نہیں بننی چاہئیں یا صرف چند ہمدردوں کے دلوں میں ان کے لیے