تأثرات — Page 511
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد ہو گیا۔سواے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے اس لیے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غم گین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لیے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے، اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دُعا کرتے رہو اور چاہیے کہ ہر صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دُعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔66 472 (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304 تا 306) پس پیش گوئیوں کے مطابق خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ قائم کی گئی اور اس کے زیر سایہ وہ تمام کام پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جاری فرمائے تھے۔اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو خلافت احمدیہ کے ساتھ جس اٹوٹ بندھن میں باندھ رکھا ہے اور باہمی اخوت کے جس حصار میں محفوظ کر رکھا ہے وہ بے نظیر ہے اور اس کی مثال دنیا کے کسی بھی تعلق میں نہیں ملتی۔خلافت تو گویا جماعت احمدیہ کی شہ رگ ہے گویا حضرت خلیفہ اسیح کا وجود ایک دل ہے اور احباب جماعت نبض کی طرح ان کی پیروی میں اطاعت کے درجات اور منازل طے کرتے چلے جارہے ہیں۔دربارِ خلافت سے جو فرمان بھی جاری ہوتا ہے ہر ایک