تأثرات — Page 477
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء کلام مکرم و محترم مبارک احمد صدیقی صاحب گزرے ہوئے سال کی تاریخ گواہ سائے کی طرح سایہ مکن خدا اور رات جو آئے بھی تو پروانوں پروانوں کو کیا جاتا ہوا نور خلافت کا قانون بنائے ہیں بہت اہلِ ستم اب لے نہ کوئی اُن کے سوا خدا کا ނ ان سادہ مزاجوں بندے بھی کبھی روک ساتھ گزرے ہوئے روک سکے کام سال کی تاریخ گواہ ہے دیتے ہیں اشکوں کے نگینے سجدوں میں لٹا دیتے ہیں طلللل ہے نے کوئی جا کے پوچھے خدا کے اپنے محمدؐ کی مسیحا کی دُعا ہے دنیا کے خداؤں ނ شکایت نہیں کرتے کچھ اور بڑھا دیتے ہیں کو اپنے لہو کی اور بڑھا تیز ہواؤں ނ نہیں کرتے سدا اونا کیا ہے کردار کی عظمت کو گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے آتی ہے صدا ویپ ہواؤں اک مانے روز شہیدوں کے لہو بجھائے کا لکھا پڑھ نہیں سکتے : بجھیں ނ گے ہو تو سن لو! مل مل ٧٧٧ بجھاؤ گے تو اور جلیں گے نہ کوئی مانے مگر ایسا ہوا ہے گزرے ہوئے سال کی تاریخ گواہ ہے 438