تأثرات

by Other Authors

Page 29 of 539

تأثرات — Page 29

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء 2 آئیوری کوسٹ : 29 آئیوری کوسٹ کے دس ریجن ہیں ان سب میں سے ایک ہزار پچاس افراد نے اس بابرکت جلسہ میں شرکت کی۔مردوزن اور بچوں بوڑھوں پر مشتمل یہ قافلہ 13 بسوں کے ذریعہ بڑا لمبا اور تھکا دینے والا سفر کر کے 16 اپریل 2008 ء کو گھانا پہنچا۔جوشِ اخلاص و وفا سے معمور احباب جماعت نے صعوبتوں بھرا یہ سفر طے کیا۔تمام وفود نے ملک کے مختلف علاقوں سے جماعتی مرکز آبی جان تک کا سارا خرچ خود برداشت کیا جبکہ بعض جگہوں سے یہ خرچ چالیس پاؤنڈ سے بھی زیادہ کا تھا اور آبی جان سے اکرا، گھانا تک کا سفر خرچ بھی ہر ایک نے پچاس فیصد تک خود برداشت کیا۔اپنے پیارے امام سے شرف ملاقات پانے کے لیے عشاق نے مالی قربانیوں کے قابل قدر نئے باب رقم کیے۔اومے ریجن کے ایک دوست نے بتایا کہ یہ بے حد مبارک موقع ہے۔اس کی برکات سے نہ صرف میں خود مستفید ہوں بلکہ میں 9 دیگر افراد جو اپنا سفر خرچ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ان کا خرچ بھی برداشت کروں گا۔اس وفد میں آبی جان کے وہ چار سادہ لوح احمدی بھی شامل تھے جو پولیس کی وردی میں ملبوس دھو کہ باز لٹیروں کے ہاتھوں مکمل طور پر لٹ گئے اور زدوکوب بھی کیے گئے لیکن انہوں نے اپنا سفر روکا نہیں بلکہ عزم و ہمت کے یہ پیکر اُسی لٹی پٹی حالت میں گھانا کے جلسہ میں پہنچے۔اینگرور یجن کی ایک جماعت Amoriakro نے عزم کیا کہ چونکہ خلافت احمدیہ کے سوسال مکمل ہورہے ہیں اس لیے اس کی مطابقت سے ہمارے گاؤں سے سو افراد کا ایک وفد اس جلسہ میں شرکت کرے گا۔چنانچہ اس مقصد کے لیے اُنہوں نے ایک کھیت وقف کر دیا کہ اس سے جو آمدنی ہوگی اس سے اس لکھی سفر کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔اس جذبہ پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کھیت میں غیر معمولی برکت عطا فرمائی اور وہاں سے سو (100) کی بجائے ایک سو تین (103) افراد کا وفد گھانا کے اس جلسہ میں شریک ہوا۔افالیکرو (Afalikro) نامی ایک گاؤں کے ستاون (57) افراد جماعت نے اس جلسہ میں شمولیت کی توفیق پائی۔ان میں تمھیں (23) ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے قرض اُٹھا کر اس سفر کے اخراجات برداشت کیے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ موقع تو دوبارہ نہیں آئے گا لیکن قرض تو ہم بعد میں ادا کرتی رہیں گی۔وابور یجن کی دو بچیاں جن کی عمریں بالترتیب بارہ (12) اور تیرہ (13) سال ہیں اُنہوں نے جلسہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ عرصہ قبل ایک کھیت میں کام کرنا شروع کیا اور بالآخر وہ اپنے اس بابرکت مقصد میں کامیاب ہو گئیں۔امیر صاحب آئیوری کوسٹ نے بتایا کہ لوگوں کے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ لوگوں میں طاقت نہ تھی کہ آمد ورفت کے بھاری اخراجات برداشت کر سکیں۔چنانچہ لوگ معلمین اور مبلغین کرام کے پیچھے بھاگتے اور منتیں سماجتیں کرتے کہ کسی طرح ان کو بھی اپنے آقا کے دیدار کی توفیق مل جائے۔چنانچہ کئی ایک احباب کو معلمین اور مبلغین کرام نے جزوی اور مکمل سفر خرچ اپنے پاس سے مہیا کیا۔