تأثرات — Page 461
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 422 سمندر اور پہاڑوں نے مرا رسته بہت روکا میں سینہ چیر کر اُن کا فضا میں اُڑتا جاتا ہوں مخالف ظلم کرتا وہ مجھ کو آزماتا مگر میں صبر کرتا ہوں ہے ہے میں اُس کو آزماتا ہوں مجھے اس عمر میں گھر ނ نکلنا بوجھ لگتا ہے خوشی جب وہ بلاتے ہیں تو سر کے بل میں آتا ہوں محبت کی G وہ ہے زخم شنل تو اشک رواں تھمتے نہیں میرے ہیں تو اکثر مسکراتا ہوں لگتے گھڑیاں جن کی قیمت ہی نہیں کوئی جب اُن کے چومتا ہوں ہاتھ آنکھوں سے لگاتا ہوں وہ شاعر ہوں جو قدسی اٹھا کر شعر پڑھتے ہیں اشعار میں میں ڈر میں کے گنگناتا ہوں