تأثرات — Page 424
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 386 2008ء صد سالہ خلافت جوبلی کا سال ہونے کے ناطے ایک اہم سال تھا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اس سال 1051 ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ 699 گھنٹے وقت ملا اور آٹھ کروڑ سے زائد افراد تک اس ذریعہ پیغام پہنچا۔اسی طرح ریڈیو اشاعت اسلام کا ایک بہت ہی مفید اور کارآمد ذریعہ ہے۔غریب ممالک خصوصاً افریقہ میں ریڈیو بڑے شوق سے سنا جاتا ہے اور دُور دراز کے علاقوں میں اس کے ذریعہ پیغام پہنچتا ہے۔مجموعی طور پر مختلف ممالک کے ریڈیو اسٹیشن پر 215 گھنٹے پر مشتمل 7,051 پروگرام نشر ہوئے جس کے 66 ذریعہ سے محتاط اندازے کے مطابق چھ کروڑ سے زائد افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا۔“ (جلسہ سالانہ یو کے۔دوسرے دن کا خطاب۔فرمودہ حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی۔بتاریخ 2008-07-26) صد سالہ خلافت جو بلی کے سال میں نئی بیعتیں : حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ نے عالمی بیعت کا جو بابرکت سلسلہ شروع فرمایا تا اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج بھی جاری ہے اور ہر سال جلسہ سالانہ برطانیہ کے تیسرے دن حضرت خلیفہ اسیح کے ہاتھ پر کروڑں سعید روحیں بیعت کرتی ہیں۔بیعت کرنے والوں میں نئی سعید روحوں کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے احمدی تجدید بیعت کرتے ہیں اور یہ نظارہ دیکھنے والا ہوتا ہے جب ساری دنیا کے احمدی بہ یک وقت اپنے امام کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔سال 2008ء میں بھی بہت سے نئے احباب کو بیعت کی سعادت ملی اور دیگر احمد یوں نے بھی پیارے امام کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی سعادت حاصل کی۔عالمی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال بیعتوں کی تعداد 3,54,638 ہے۔اس سال 121 ممالک سے 351 قو میں احمدیت میں شامل ہوئی ہیں اور نائیجیریا کی امسال بیعتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چھیاسی ہزار سے اوپر ہے۔گزشتہ سال ان کی تعداد ایک لاکھ انچاس ہزار تھی اس طرح کئی نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔(جلسہ سالانہ یوکے۔دوسرے دن کا خطاب۔فرمودہ حضرت خلیفتہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی۔بتاریخ 2008-07-26) نظام وصیت اورصد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی : استحکام خلافت اور نظام وصیت کا باہمی اٹوٹ تعلق ہے۔نظام نو در اصل نظام وصیت سے ہی وابستہ ہے۔2004ء میں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ