تأثرات — Page 356
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء مضامین اور خطوط کے ذریعہ اپنے جذبات کا اظہار : 318 مختلف احباب جماعت نے مضامین لکھ کر اور خطوط لکھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا ان میں سے چند ایک حاضر خدمت ہیں: 1) مکرم حنیف محمود صاحب نائب ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ: مکرم حنیف محمود صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ نے ایک سے زائد مضامین لکھے اور ہر مضمون میں بڑے ہی پیارے انداز میں بعض ایسی روز مرہ باتوں کا نقشہ کھینچا جو عموماً نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں: اس تاریخی خوشی میں شمولیت کی ہر شخص کی ادا الگ اور نرالی تھی۔بعض نے اپنی شادیوں کے فنکشنز کو ان تاریخوں میں رکھ کر خوشی کا اظہار کیا ، بعض حضرات نے کئی ماہ کی زحمت گوارا کر کے دکانوں اور کاروبار کے افتتاح کے لیے اس روز کو ترجیح دی اور بعض بیوت الذکر اور جماعتی عمارات کی بنیاد میں یا افتتاح ان مبارک تاریخی دنوں میں ہوئے۔بعض جگہوں پر جماعتوں کے توسط سے یا انفرادی طور پر احباب نے چھوٹے چھوٹے بروشر نما پمفلٹ ارشادات پر مشتمل تیار کروا کر اپنے عزیز واقارب کو بھجوائے کہ 27 مئی کو اسے بطور درس گھروں میں پڑھیں۔جماعتوں نے من حیث الجماعت اور انفرادی طور پر لوگوں نے اپنے عزیز واقارب، پڑوسیوں سے رابطے کیے۔ان کے گھروں میں گئے ، جدائیاں دور ہوئیں ، آپس میں گلے ملے، رنجشیں اور شکوے دُور ہوئے جس انتہائی بشاشت ،مسکراتے چہروں اور خندہ پیشانی سے اس روز لوگ آپس میں بغل گیر ہوئے اور مسرت اور خوشی کے ساتھ گھروں میں عزیز واقارب ایک دوسرے سے گلے ملے۔یہ رُوحانی تعلق قابل دید تھا اور جس طرح عید کے بعد بغل گیر ہو کر مبارک بادیں شیئر ا (Share) کی جاتی ہیں بعینہ گھروں میں ، باہر بازاروں میں، بیوت الذکر میں یہی سماں تھا جو دیکھنے کومل رہا تھا۔جماعتوں نے بکرے صدقے کے طور پر ذبح کیے اور بعض نے تو آخری دنوں میں ہی نظام وصیت میں شامل ہو کر خلافت سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔۔۔۔۔ہمارے ایک نو مبائع دوست 27 مئی کا جشن دیکھنے ربوہ تشریف لے آئے اور آتی دفعہ جب انہوں نے اپنے افسر سے اجازت چاہی تو جواب نفی میں ملا وہ یہ ارادہ کر کے ربوہ