تأثرات — Page 289
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 261 ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔قریباً ڈیڑھ صد سے زائد افراد نے حضور انور کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کی سعادت پائی صوبہ کیرالہ کی سرزمین پر یہ پہلی نماز تھی جوکسی خلیفہ وقت نے پڑھائی۔کالی کٹ میں احمدیہ مسجد بیت القدوس“ کا افتتاح: 25 نومبر 2008ء کو حضور انور نے مسجد کی بیرونی دیوار پر نصب یادگاری سختی کی نقاب کشائی فرمائی۔مسجد سے ملحقہ علاقہ میں ایک بڑی مار کی لگا کر استقبالیہ تقریب کا انتظام کیا گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں احباب اور مسجد کے ایک احاطہ میں خواتین حضور انور کی منتظر تھیں۔افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کے بعد جیسے ہی حضور انور مارکی میں تشریف لائے احباب نے بڑے ولولہ انگیز اور پر جوش نعرے بلند کیے اور کافی دیر تک فضا نعروں سے گونجتی رہی۔احباب میں ایک غیر معمولی جوش اور جذبہ تھا۔نعرے لگاتے تھے اور روتے جاتے تھے۔ایسا روح پرور منظر کہ خلیفہ وقت ان میں موجود ہو، انہوں نے اپنی زندگیوں میں پہلی بار دیکھا تھا۔سبھی عشاق اس منظر کو ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں کے ذریعہ دلوں اور روحوں میں اُتار لینا چاہتے تھے۔خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ : حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” آپ کے چہروں پر میں دیکھ رہا ہوں ایک سکون، ایک اطمینان ہے، ایک نیکی ہے جو ایک احمدی کے چہرے پر ہونی چاہیے۔تو امید ہے کہ آپ اس نیکی کو مزید بڑھائیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین الفضل انٹر نیشنل 19 تا 25 دسمبر 2008ء صفحہ نمبر 7) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اس خطاب کے بعد لجنہ اماءاللہ کی مارکی میں تشریف لے گئے جہاں خواتین نے شرف زیارت حاصل کیا۔میڈیا کوریج مسجد کی اس افتتاحی تقریب میں اخبارات، ٹیلی ویژن اور نیوز ایجنسی کے نمائندگان آئے ہوئے تھے جنہوں نے استقبالیہ تقریب کی رپورٹس تیار کیں اور ریکارڈنگ بھی کی۔رپورٹس تیار کرنے والوں میں مندرجہ ذیل اخبارات، ایک نیوز ایجنسی اور چار ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے اور جرنلسٹ شامل تھے۔ملیالم زبان کا اخبار Mathrubhumi