تأثرات — Page 233
208 تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء میں وہی ہمارے مہربان میئر صاحب جو اس وقت یہاں ابھی آئے بھی ہوئے تھے وہ بھی ایک دن غصہ میں بھرے ہوئے آئے اور یہاں نمازوں پر پابندیاں لگانے کی ، اس ہال کو گرانے کی دھمکیاں بھی دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرماتے ہوئے ان لوگوں کے دلوں کو اپنے فضل سے بدلا تو انہی لوگوں نے باقاعدہ مسجد کی اجازت بھی دے دی بلکہ مجھے یاد ہے کہ یہی میئر صاحب جو ایک زمانے میں جماعت کے بارہ میں اچھے خیالات نہیں رکھتے تھے ایک جلسہ پر یہاں تشریف لائے۔میں یہیں تھا تو بڑے ادب احترام سے سیج پر بھی جوتے اتار کر آئے ، بڑے احترام سے مجھے ملے۔تو اللہ تعالیٰ نے اُن کا دل نرم کیا اور وہی شخص جو ہمیں نمازوں سے روکتے ہوئے ہمارے اس عارضی ہال کو گرانے کے درپے تھا ہمیں با قاعدہ مسجد کی تعمیر کے لیے نہ صرف اجازت دینے کے لیے تیار ہو گیا بلکہ راستے کی روکوں کو دور کرنے کے لیے خود ہمارا مددگار بن گیا اور ابھی تک یہ ہماری مدد کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور ان کا سینہ مزید کھولے کہ وہ احمدیت کے پیغام کو اسلام کے پیغام کو سمجھنے والے بنیں۔پس یہ جو اللہ تعالیٰ جماعت پر فضل فرماتا ہے اور اپنے بے شمار انعامات سے نوازتا ہے اور ہم جو مانگ رہے ہوتے ہیں اس سے بہت بڑھ کر دیتا ہے، يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِی إِلَيْهِمُ مِّنَ السَّمَاءِ کے الفاظ کہ کر تسلی دیتا ہے تو صرف اپنوں کو ہی مددگار نہیں بناتا بلکہ غیروں کے دلوں میں بھی ڈالتا ہے کہ وہ اُس کے بندوں کے معین و مددگار بن جائیں۔یہ باتیں ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بنانے والی ہونی چاہئیں اور شکر گزاری کا اظہار ہم کس طرح کر سکتے ہیں؟ اس کا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ ہو، مسجد کی زینت اور خوب صورتی کا خیال پہلے سے بڑھ کر رکھنے والے ہوں، تقوی میں ترقی کرنے والے ہوں کیونکہ مساجد کی تعمیر کا سب سے بڑا مقصد تو تقوی کا قیام ہی ہے۔مسجد ہمیں جہاں ایک خدا کے حضور جھکنے والا بنانے والی ہوتی ہے اور بنانے والی ہونی چاہیے وہاں خدا تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والی بھی ہونی چاہیے۔پس یہ ایک بہت بڑا مقصد ہے جو ہر احمدی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شکر گزاری تبھی ممکن ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت پہلے سے بڑھ کر کرنے والے ہوں گے، اس کے گھر میں جب جائیں تو تمام دنیا وی سوچیں اور خیالات باہر رکھ کر جانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ خدا کا گھر ہے اور جب ہم اس کے گھر اس لیے جا رہے ہیں کہ وہی ایک خدا ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے اور خالق ہے ، وہ