تأثرات — Page 207
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 183 جلسہ سالانہ برطانیہ کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے تاثرات : جلسه سالانه برطانیہ بہ خیر و خوبی منعقد ہوا اور ہر ایک پر اپنی برکات برساتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچا۔ہر ایک جو اس جلسہ میں شامل تھا یا اس جلسہ کی کارروائی اپنے گھر پر بیٹھا ایم ٹی اے کے ذریعہ دیکھ اورسن رہا تھا وفا اور اطاعت کے ایک نئے اور اٹوٹ بندھن میں بندھ چکا تھا۔ایسے میں گزرے ہوئے دنوں کی یاد کا چپکے سے آجانا اور انکھیں بھگو دینا کوئی بعید از قیاس امر نہیں ہے۔اس کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اگست 2008 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: اس سال بھی کئی لوگ مجھے ملے جو صرف جلسہ کی غرض سے آئے اور جلسے کے اگلے روز واپس چلے گئے یا کچھ لوگ ہیں جو اس جمعہ تک کا انتظار کر رہے ہیں اور اکثریت کی کل یا پرسوں کی فلائٹ ہے۔بعض کو میں جانتا ہوں اتنی مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ اتنا خرچ کر کے آئیں خاص طور پر پاکستان سے آنے والے لیکن جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں لینے اور خلیفہ وقت سے ملنے کے لیے آتے ہیں۔اس دفعہ کافی تعداد میں دنیا میں ہر جگہ مختلف ممالک میں احمدیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی تھیں لیکن ہر جگہ جتنی تعداد میں درخواستیں دی گئی تھیں اس کے مقابلہ میں بہت کم ویزے ملے۔جن کی درخواستیں رڈ کی گئیں انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں اپنی محرومیت کا اظہار کیا لیکن اصل جذباتی کیفیت کا اظہار تو ان لوگوں کے خطوں سے ہوتا ہے جو وسائل بھی نہیں رکھتے کہ یہ امید کر سکیں کہ اگر اس دفعہ نہیں تو اگلے سال اللہ تعالیٰ ویزہ ملنے کا کوئی سبب بنا دے گا۔ایسے جذباتی انداز میں اپنی محرومیت اور خلافت سے دُوری کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کا بیان کرنا تو ایک علیحدہ بات ہے ایسے خط پڑھ کر بھی جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرمائے کہ جلد یہ ڈوریاں بھی قربتوں میں بدل جائیں۔جتنی بھی کوشش ہو جائے یہاں آنے یا قادیان کے جلسہ میں شمولیت کے لیے چند ہزار سے زاید لوگ شامل نہیں ہو سکتے لیکن پاکستان میں تو لاکھوں کا جلسہ ہوتا تھا۔ربوہ کے چھوٹے سے شہر میں جب جلسہ کے دنوں میں اتنا رش ہوتا تھا تو سڑکوں پر چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔وہ بھی عجیب رونقیں تھیں اور عجیب بہاریں ہوتی تھیں۔ایک عجیب روحانی ماحول ہوتا تھا۔یہاں کے جلسے ربوہ کے جلسوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن بھی ضرور آئیں گے جب ربوہ کی رونقیں دوبارہ قائم ہوں گی اور پاکستانی احمدی بھی ایک