تأثرات

by Other Authors

Page 127 of 539

تأثرات — Page 127

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 116 تک کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں مانیں گے کہ جب میرا مسیح اور مهدی ظاہر ہو تو اُس کو میر اسلام پہنچاؤ۔“ خطبہ جمعہ 30 مئی 2008 ، فرمودہ حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ الله الفضل انٹرنیشنل 20 جون تا26 جون 2008 صفحہ 6) ایک دوست کے تاثرات بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک لکھنے والے نے لکھا کہ اگر مُردوں کو زندہ کرنے کا ذریعہ کوئی تقریب بن سکتی ہے تو وہ یہ تقریب اور آپ کا خطاب تھا۔خدا کرے کہ حقیقت میں ایک انقلاب اس تقریب سے دُنیائے احمدیت پر آیا ہو اور وہ قائم بھی رہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اپنے دلوں کی پاک تبدیلیوں کو ہمیشہ قائم رکھنے والے بنے رہیں۔“ (خطبہ جمعہ 30 مئی 2008، فرمودہ حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ الفضل انٹر نیشنل 20 جون تا 26 جون 2008 صفحہ 6) ایک اور مخلص دوست کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ میں آج نئے سرے سے احمدی ہوا ہوں۔کئی ایسے جو بعض شکوک میں مبتلا تھے گو انہوں نے بیعت تو کر لی تھی خلافت خامسہ کی لیکن اُن کے دل اس بات پر راضی نہیں تھے انہوں نے لکھا کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور استغفار بھی کی اور آپ سے بھی عہد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس تقریر کی برکت سے ہمارے دلوں کو صاف کیا ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ دھو کر چمکا دیا ہے۔اس کے بعد ہم اب خلافت احمدیہ کے لیے ہر قربانی کے لیے سچے دل سے تیار رہیں گے اور اپنی نسلوں میں بھی وہ رُوح پھونکنے کی کوشش کریں گے جو ہمیشہ اُن کو خلافت کے فیض سے فیض یاب ہونے والا رکھے۔“ (خطبہ جمعہ 30 مئی 2008، فرمودہ حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ الفضل انٹر نیشنل 20 جون تا 26 جون 2008، صفحہ 6) پاکستان میں چونکہ جماعت احمدیہ پر پابندیاں ہیں کہ وہ اجتماعی طور پر نہ تو اپنی مرضی سے اپنی جماعتی خوشیاں منا سکتی ہے اور نہ ہی تربیتی اور دینی تقریبات اور جلسے یا اجتماع منعقد کر سکتی ہے۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے حوالے سے جماعتی تقریبات اور حاسدین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ باوجود مولویوں کے شور کے پاکستان میں بھی جماعتوں نے اس میں شمولیت اختیار کی اور اپنے طور پر بھی جو اُن کے پروگرام تھے وہ پورے کیے۔گو کہ اُس کے بعد آج یا کل پابندی لگ گئی لیکن جماعت کو وہاں اُس طرح سے محرومی کا وہ احساس نہیں رہا جس طرح 1989 ء میں صد سالہ جو بلی پر ہوا تھا کہ ساری تیاریوں کے باوجود حکومت کی طرف سے ایک آرڈینینس آیا تھا جس کے تحت جماعت احمدیہ کسی بھی قسم کا خوشی کا پروگرام نہیں کر سکتی تھی۔نہ ہی بچوں میں اردگرد مٹھائی اور ٹافیاں تقسیم کر