تأثرات

by Other Authors

Page 123 of 539

تأثرات — Page 123

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ”اے میرے پیارو اور میرے پیاروں کے پیارو! اُٹھو آج اس انعام کی حفاظت کے لیے نئے عزم اور ہمت سے اپنے عہد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور گرتے ہوئے ، اُس کی مدد مانگتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ اسی میں تمہاری بقا ہے۔اسی میں تمہاری نسلوں کی بقا ہے اور اسی میں انسانیت کی بقا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی توفیق دے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ ہم اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔اللھم آمین 66 113 الفضل انٹر نیشنل۔خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی نمبر 25 جولائی تا 7 اگست 2008 ء صفحہ 12) حضرت خلیفہ امسیح کے ذہن مبارک سے نکلے ہوئے یہ زندگی بخش کلمات ایک کھلی ہوئی سچائی ہیں ایسی حقیقت جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔کوئی ایک بھی انصاف پسند ، شریف النفس ، حق پرست اور حق گو اور سعید فطرت انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔پس خلافت احمدیہ کی سوسالہ درخشاں و تابندہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ خلافت ہے جس کی بشارتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منہاج نبوت پر قائم ہونے والی خلافت کے طور پر دی تھیں اور یہ و ہی قدرتِ ثانیہ ہے جس کی خوش خبری حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی اور یہی وہ حبل اللہ اور حبل متین ہے کہ جس کو مضبوطی سے تھام لینے والے ہی اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل کے وارث ٹھہر سکتے ہیں اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کی حقیقی اور لا ریب تصویر پیش کر سکتے ہیں اور دشمنانِ اسلام کے مقابل پر بنیان مرصوص بن کر اُبھر سکتے ہیں۔ایم ٹی اے کی آنکھ بھی ساری دُنیا کو بلا تمیز دکھا رہی ہے کہ کس طرح یہ پیش گوئیاں اپنی جلالی اور جمالی شان کے ساتھ پوری ہورہی ہیں اور جماعت احمد یہ خلافت احمدیہ کی دائی برکات سے فیض یاب ہورہی ہے اور ساری دُنیا کو سیراب کر رہی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی برکات اور اس کے بارہ میں تاثرات : حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 30 مئی 2008 ء کے خطبہ جمعہ میں اپنے اور دیگر احباب جماعت اور غیر از جماعت احباب کے تاثرات بیان فرمائے جن کا 27 مئی 2008 ء کی تقریب کے حوالہ سے مختلف احباب جماعت نے اظہار کیا۔حضور انور نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: آج ان دنوں میں جب اپنی ڈاک دیکھتا ہوں تو دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔سوچتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں۔اُس کے انعامات کی بارش اس طرح جماعت پر ہورہی ہے کہ اس کے مقابل پر اگر جسم کا رواں رواں بھی شکر گزار ہو جائے تو شکر ادا نہیں ہو سکتا۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کس طرح اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر جو خلافت کی صورت میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کو دیا ہے