تأثرات

by Other Authors

Page 119 of 539

تأثرات — Page 119

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 109 پر پھیلائے ہوئے امن اور آشتی اور محبت کے حصار میں لیے ہوئے ہے۔قدرت ثانیہ کی شان جلالی کے مظہر خامس ، الہی طاقتوں کے نشان عظیم اور اِنِّی مَعَكَ يَا مَسْرُور کی تعبیر حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا غیر معمولی اثر انگیز عظیم الشان خطاب جہاں عشاق احمدیت و فدائیان خلافت احمدیہ کے دلوں میں تسکین پیدا کرنے کا باعث بن رہا تھا وہاں معاندین احمدیت پر بجلیاں گرا ر ہا تھا۔اس دن کی پاکیزہ اور سر شار کر دینے والی یادیں سب احمدیوں کے دلوں میں گلابوں کی طرح ہمیشہ مہکتی رہیں گی۔اس دن حضرت خلیفہ اسیح کے مبارک ہاتھ پر کیے گئے عہد وفا اور تجدید عہد بیعت کے شیریں انثمار خلافت احمدیہ کی دوسری صدی میں بھی تازہ بہ تازہ اور نو بہ نو ملتے رہیں گے اور آئندہ آنے والی تمام صدیاں اُن سے بہرہ ور ہوتی رہیں گی۔خوف ہر لمحہ امن میں بدلتا رہے گا۔خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے بچے عبادت گزاروں کا گروہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا اور ہر دم پھلتا پھولتا رہے گا۔نورِ خلافت اسی طرح نور علی نور کا جلوہ دکھاتا رہے گا اور دنیا دیکھے گی کہ خلافت سے وابستہ ، وحدت کی لڑی میں پروئی اور موحدین و خلصین پر مشتمل آسمانی بادشاہت کی موسیقار یہ جماعت سینۂ عالم میں توحید باری تعالیٰ کا پرچم گاڑ کر رہے گی۔حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شکر کے جذبات کے اظہار کے لیے یہاں بھی جمع ہوئے ہیں اور ایم ٹی اے کی وساطت سے دُنیا کے تمام ممالک میں احمدی اس تقریب میں شامل ہیں۔اس اہم موقع پر سب سے پہلے تو میں آپ کو بھی اور دُنیا کے تمام احمد یوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی بدولت ایک وحدت کا نظارہ دیکھ رہے ہیں۔آج اللہ تعالیٰ کے انعامات کی بارشوں کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اپنے وعدوں کے مطابق کیے ہیں اور کر رہا ہے اُس بستی کے بھی نظارے کر رہے ہیں۔(آپ لوگوں کے سامنے سکرین نہیں لیکن میں دیکھ رہا ہوں، کچھ کو نظر بھی آرہا ہوگا۔وہ بستی بھی اس وقت ہمارے سامنے ہے۔وہ ایک چھوٹی سی بستی تھی جسے کوئی نہیں جانتا تھا۔آج نہ صرف مسیح محمدی کی بستی کو تمام دنیا جانتی ہے بلکہ اُس بستی کے گلی کوچوں اور اُس سفید منارے کو جو مسیح محمدی کی آمد کے اعلان اور تمبل (Symbol) کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا ایک دُنیا دیکھ رہی ہے اور آج ہم اس تقریب میں اللہ تعالیٰ کے اپنے پیارے صحیح سے کیے گئے وعدے کے مطابق اُس اُولو العزم اور موعود بیٹے کے ہاتھ سے انجام پانے والے کارناموں میں سے ایک عظیم کارنامہ، بے