تأثرات

by Other Authors

Page 118 of 539

تأثرات — Page 118

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 108 کے لیے، اپنے امام سے بے لوث محبت، عشق اور فدائیت اور غیر معمولی جذبہ اطاعت ہر غیر آنکھ کے لیے پرکشش تھا۔جب اُنہوں نے وہ شمع رخ انور دیکھی کہ جس پر فدا ہونے والے یہ پروانے جمع ہوئے تھے تو یہ بات اُن کو سمجھ میں آئی کہ یہ کس حسن و جمال کی تاثیر ہے۔سبحان اللہ ! یہ اسی آسمانی قیادت کی حسن تربیت، حسن تدبیر اور شب و روز کی دعاؤں کا اعجاز ہے کہ یہ زمینی مخلوق آسمانی بن گئی کیونکہ یہ وہ مخلوق ہے جس نے آسمانی منادی کی ندا کو سنا اور بہ دل و جان قبول کیا اور اُس کی رُوحانی قیادت سے وابستہ و پیوستہ ہیں جو بلاشبہ ہدایت یافتہ آسمانی قیادت ہے۔اس عظیم روحانی اجتماع میں بچے بھی شامل تھے اور نو جوان بھی عورتیں بھی تھیں اور اسی نوے سال کے بوڑھے احباب بھی اور بعض مائیں تو اپنے ایک ایک ماہ کے نومولود شیر خواروں کو لے کر آئی تھیں تا کہ وہ بھی اس تاریخی موقع کی برکات سے فیض پاسکیں۔یہاں پر بعض معذور احباب بھی دکھائی دیئے جو اپنے دلوں کو اپنے امام کی اطاعت کے نور سے منور کر رہے تھے۔ایم۔ٹی۔اے کے ذریعہ دُور دراز کے احمدی احباب بھی اس ساری کارروائی کو دیکھ اور سن رہے تھے۔نیز ربوہ اور قادیان کے ساتھ بھی براہ راست رابطہ تھا اور ایم ٹی اے پر براہِ راست کبھی قادیان کے مناظر دکھائے جا رہے تھے تو کبھی ربوہ میں بیٹھے ہوئے احباب جماعت کو دکھایا جار ہا تھا۔وفور جذبات سے ہر آنکھ نم تھی اور ہر ایک دل درود شریف سے تر لندن، قادیان اور ربوہ سے بلند ہونے والے نعرہ ہائے تکبیر اور درود شریف کی صدائیں دلوں کو گر مارہی تھیں اور ایمان، عرفان اور عمل صالح کے نئے نئے جذبوں کو بیدار کر رہی تھیں۔عشق و وفا کی نئی نئی اور لازوال داستانیں رقم کر رہی تھیں۔ان مسرتوں ، خوشیوں اور برکات کو لفظوں میں کیسے بیان کیا جاسکتا ہے! گویا: منظر وہ یعنی کہ میرے بیاں میں نہ آ سکے ہے طلسم خانه دیدار یار ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب اور عہد وفا : ( محمد مقصود احمد منیب ) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ خدا کے شیر کی طرح تشریف لائے اور خطاب فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ماشا ء اللہ نہایت درجہ پر شوکت، پر جلال، ولولہ انگیز اور دلوں کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات سے گرمانے والا تھا۔آپ کے زندگی بخش کلمات نے سینوں میں ایک نور بھر دیا اور تمام ظلماتی پردے چاک کر کے دلوں کو خوب منور کیا۔آنکھیں فرط جذبات میں تشکر کے اشکوں سے چمک رہی تھیں اور روحیں نئے عہد پر مستعد کھڑی تھیں۔صاف دکھائی دے رہا تھا کہ آسمانی آقا، رب الافواج اپنے پیارے فرشتوں کی افواج کے جلو میں جلوہ آرا ہو کر اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے اس پودے کی تمام سرسبز شاخوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھ کر خوش ہو رہا ہے اور اپنے تمام تر جاہ وجلال کے ساتھ مؤمنین کے اس طائفہ کو عاطفت کے