تأثرات — Page 114
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی تقریبات 2008ء کوئی مسلم یا غیر مسلم مؤرخ تاریخ ہند یا تاریخ اسلام میں ان کا نام تک نہ لے۔“ 104 ( اخبار وکیل۔امرت سر 13 جون 1908 ء۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 205 و 206) لیکن آج تاریخ احمدیت گواہ ہے۔دُنیا جانتی ہے کہ اُن کا نام لیوا تو کوئی نہیں لیکن خلافت کی برکت سے احمدیت دنیا میں پھول پھل رہی ہے اور کروڑوں اس کے نام لیوا ہیں۔اپنی بے ہودہ گوئیوں میں یہاں تک بڑھے کہ ایک اخبار ” کرزن گزٹ“ نے لکھا جسے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے اپنی پہلی جلسہ کی تقریر میں بیان کیا کہ: اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے؟ اُن کا سرکٹ چکا ہے۔ایک شخص جو اُن کا امام بنا ہے اُس سے تو کچھ ہو گا نہیں۔ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ (221) حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ یہی تو کام ہے۔خدا توفیق دے۔بدقسمتی سے جماعت کے بعض سرکردہ بھی خلافت کے مقام کو نہ سمجھے۔سازشیں ہوتی رہیں لیکن خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا بڑھتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق محبوں کی جماعت بڑھتی رہی اور کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کارگر نہ ہوئی۔پھر خلافت ثانیہ کا دور آیا تو بعض سرکردہ انجمن کے ممبران کھل کر مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے لیکن وہ تمام سرکردہ علم کے زعم سے بھرے ہوئے، تجربہ کار، پڑھے لکھے اور اس چپیس سالہ جوان کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور اُس نے جماعت کی تنظیم، تبلیغ، تربیت، علوم و معرفتِ قرآن میں وہ مقام پیدا کیا کہ کوئی اُس کے مقابل ٹھہر نہ سکا۔جماعت پر پریشانی اور مخالفتوں کے بڑے دور آئے لیکن خلافت کی برکت سے جماعت اُن میں کامیابی کے ساتھ گزرتی چلی گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے باون سالہ دورِ خلافت کے حالات پڑھیں تو پتہ چلے کہ اُس پسر جری اللہ نے کیا کیا کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔دُنیائے احمدیت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد پھر ایک مرتبہ خوف کی حالت طاری ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اُسے چند گھنٹوں میں امن میں بدل کر قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر کا روشن چاند جماعت کو عطا فرمایا۔حکومتوں کے ٹکرانے کے باوجود، ظالمانہ قوانین کے اجراء کے بعد تمام مسلمان فرقوں کی منظم کوشش کے باوجود، یہ قافلہ ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیا۔پیار و محبت کے نعرے