تأثرات — Page 236
تاثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء لیے ہیں اس لیے اس خوشی کے موقع پر آج ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم بھی آج خوش ہیں۔گزشتہ بائیس سال سے میں اس جماعت کو جانتا ہوں اور بائیس سال کا عرصہ کافی ہے کسی کو جاننے کے لیے۔آج میں خود بر ملا اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ آپ کے محبت اور امن کے پیغام نے ہمارے دل جیت لیے ہیں۔۔۔آپ جب نئے نئے آئے تھے تو ہمارے دل میں ایک خوف تھا کہ کس طرح کے مسلمان ہوں گے؟ کیا میں آپ لوگوں کو خوش آمدید کہہ سکتا ہوں؟ میرے دل میں ایک خوف تھا۔آپ کو جاننے ، آپ کے پروگراموں میں شامل ہونے اور آپ کی تقاریر، باتیں سننے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے قانون کی پابندی کرتے ہیں۔آپ نے بین المذاہب کا نفرنس کا انعقاد کیا تھا میں اس میں شامل ہوا تھا۔میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی جماعت حکومت کے قوانین اور اصولوں کی زیادہ پاس داری اور احترام کرتی ہے۔جب مجھے جماعت کا ایک وفد ملنے کے لیے آیا کہ ہم ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں تو ہم نے سوچا کہ کس طرح کی مسجد بنائیں گے؟ کہیں اس سے مسائل نہ پیدا ہوں تو ہم نے راہنمائی کی کہ آپ اس طرح کی بلڈنگ بنائیں جو دوسروں کو پرابلم نہ دے اور اس طرح آپ اس علاقہ میں اپنی مسجد تعمیر کریں۔آپ نہ صرف لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں بلکہ اس تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ انسانیت کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ہمارے ساتھ مل کر آپ نے اس پرا جیکٹ میں حصہ لیا ہے جس سے دوسروں کی مدد ہوتی ہے۔آپ فساد کرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں۔میں اپنے آپ کو بڑا آدمی نہیں سمجھتا آپ لوگوں کے ساتھ مل کر مجھے کام کرنے میں خوشی ہوتی ہے۔میں آپ کو ایک بار پھر خوش آمدید کہتا ہوں۔ہم نے آپس میں مل کر کام کرنا ہے۔“ 211 الفضل انٹر نیشنل۔14 تا20 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 2) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تاریخی خطاب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک موقع پر معززمہمانان گرامی کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: جماعت احمدیہ کا ایک مزاج ہے جو ہر جگہ آپ کو ایک نظر آئے گا کہ انہوں نے امن پسند رہنا ہے، ایک خدا کی عبادت کرنی ہے، اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل کرنا ہے اور انسانیت کی