تأثرات — Page 91
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 85 ”میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنی خوشی کا اظہار کر سکوں۔مجھ سے کیا پوچھتے ہیں میرے لیے بیان کرنا ممکن نہیں ! ☆ الفضل انٹر نیشنل 27 جون تا 3 جولائی 2008 صفحہ 13) نائیجر کے سب سے پہلے احمدی استاد Halidou Abdoillaye جب 2004 ء کے دورہ کے دوران بینن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملے تھے تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے تھے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئے تھے، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو پہچان لیا اور سب سے ملاقات کے بعد ان کو دفتر میں بلایا الیس اللہ بکاف عبدہ والی ایک انگوٹھی اپنی انگلی میں ڈال کر اس کو برکت دی اور پھر ان کے ہاتھ میں ڈال دی۔-3 3 چاڈ (Chad) چاؤ سے آنے والا وفد ساٹھ (60) افراد پر مشتمل تھا۔یہ لوگ تیرہ سوکلومیٹر کا سفر دو دن میں طے کر کے چاڈ سے کیمرون اور پھر کیمرون سے نائیجیر یا پہنچے تھے۔انہوں نے بیان کیا کہ: ہم معلمین سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں سنتے تھے اور تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوگی لیکن خلافت جو بلی کی برکت سے آج ہماری حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہو گئی ہے ہم اپنے جذبات بیان نہیں کر سکتے۔ہم بے حد خوش ہیں۔-4 کیمرون الفضل انٹر نیشنل 27 جون تا 3 جولائی 2008 صفحہ 13) :(Cameroon) ☆ ہمسایہ ملک کیمرون سے ایک سونو (109) افراد کا وفد اس جلسہ میں شرکت کے لیے پہنچا۔یہ لوگ اپنی زندگیوں میں پہلی بار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مل رہے تھے۔ان کے ایک ممبر مکرم آدم کئی صاحب نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ”جب پہلی دفعہ میری نظر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے چہرہ پر پڑی اور پھر مجھے مصافحہ کی سعادت ملی تو میری زندگی میں اس سے بڑھ کر خوشی کا موقع کبھی نہیں آیا۔میں اس خوشی کو بیان نہیں کر سکتا۔“ الفضل انٹرنیشنل 27 جون تا 3 جولائی 2008 ء صفحہ 13) ہاؤ سا کے چیف معلم محمد بالا حضور انور ایدہ اللہ سے ملاقات کے بعد کہنے لگے: