تصدیق براھین احمدیہ — Page 289
تصدیق براہین احمد به اور فرمایا ۲۸۹ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذَّاريات: ۵۷) جب عبادت الہی انسان پر واجب ہوئی اور یہ سامان اس لئے عطا ہوا کہ انسان اپنے فرائض منصبی کو ادا کر سکے۔پس یہ سامان جزا اور سزا میں داخل نہ ہوگا کیونکہ اگر جزا اور سزائے اعمال میں اسے داخل کیا جاوے تو باری تعالی پر ظلم کا الزام ہوگا۔اس لئے کہ یہی چیزیں منصبی فرائض کے ادا کرنے میں بھی ضروری تھیں اور یہی اشیا مزدوری میں بھی داخل ہوگئیں۔ہاں ان کا وفور اور ان کا عمدگی سے میسر ہو جانا بعض وقت اعمال کے بعد ہوتا ہو تو بعید نہیں۔سولہواں جواب۔اگر یہ تفرقہ جس کے باعث تناسخ کے ماننے والوں کو شبہ پڑا سابقہ جنم کے اعمال کی سزا اور جزا ہوتا تو ضرور تھا کہ اتنی مدت کی بات بلکہ یوں کہیے کہ لا انتہا زمانہ کی باتیں ہمیں یاد ہوتیں۔اتنی لمبی مدت کے ہزاروں ہزار باتیں اور کام ہم یک قلم کیوں بھول گئے؟ اب انعام اور خلعت کے لینے والے کو خبر نہیں کس کس نیک عمل پر مجھے انعام ملا اور سزا پانے والے کو اطلاع نہیں کس بدکاری کے بدلہ میں ماخوذ ہوں۔لڑکپن کے حالات بھول جانے پر قیاس نہیں ہوسکتا۔اول۔تو اس لئے کہ اس وقت انسانی عقل ناقص اور بالکل نکمی ہوتی ہے۔دوم۔جیسے آریہ مانتے ہیں کہ سب آدمی سو در پیدا ہوتے ہیں۔قرآن کریم یوں فرماتا ہے۔وَاللهُ اخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (النحل : ٧٩) سیوم۔وہ حالت بھی مختصر وقت کی ہے اور کچھ بڑے کاموں سے اس کا تعلق نہیں۔البتہ اہل اسلام اس جنم سے پہلے ارواح پر عہد الست کا زمانہ تجویز کرتے ہیں اور اس زمانہ کو مانتے ہیں۔لے جن وانس تو صرف اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار رہیں۔