تصدیق براھین احمدیہ — Page 190
تصدیق براہین احمد به ۱۹۰ (۴) ” غالب یقین ہوتا ہے کہ خدا کی طرف جھکاتے جھکاتے آخری وقت میں حضرت کو خدا بننے کا خیال آ گیا تھا۔اور بہت شخصوں کو اپنی عبادت کی طرف بھی رجوع کرانے لگے تھے۔اس کی تصدیق اس خطبہ سے ہوتی ہے جو بر وقت وفات ان کے حضرت عمرؓ نے پڑھا تھا۔( دیکھو محمد صاحب کی زندگی کے حالات) (۵) یہ ہمہ اوست کی تعلیم ہے۔یا خود پرستی اور مشرکانہ ہدایت ہے۔غرض یہ پانچ اعتراض ہیں جن کو میں نے خلاصہ بیان کر دیا ہے اور میں نے آسانی کے لئے ان پر نمبر لگا دیئے ہیں۔مصدق۔مکذب کا پہلا دعوئی ہے۔عرب والے صدق دل سے جانتے تھے کہ اللہ ایک ہے۔اس ادعا سے بڑھ کر جھوٹا اور بے بنیاد دعوئی اور کیا ہو سکتا ہے؟ الہ کے معنی معبود کے ہیں۔اور تمام خواندہ دنیا سے مخفی نہیں کہ عرب میں کیسی خطرناک بت پرستی تھی۔اس امر کے ثابت کرنے اور اس پر شہادتیں لانے کے لئے وقت کو صرف کرنا اور ایک مسلم الثبوت امر کو پھر معرض اثبات میں لانا محض تحصیل حاصل ہے۔یہ تاریخی واقعہ ہے کہ عرب کے لوگوں نے اسی توحید کے مسئلہ پر صحابہ کرام کو ایسے دکھ دیئے کہ ان کو بمجبوری وطن چھوڑ حبشہ کو بھا گنا پڑا احضور علیہ السلام بھی آخر مشرکوں کی شرارت سے مدینہ طیبہ کو چل دیئے۔سمیہ عمار بن یاسر کی والدہ کو اسی توحید کی دشمنی پر دکھ دیا کہ اس کی شرمگاہ میں برچھی مار کر گلے سے نکالی اس طرح کے ظلم کا ظالم اور ایسی شرمناک کارروائی کا مرتکب وہی کمبخت علیہ اللعیۃ (ابو جہل ) تھا جسے مکذب براہین تکذیب میں ابوالحکم علیہ الرحمۃ کر کے لکھتا ہے !!! اس بھائی چارے کے قربان جائیے ! سچ ہے الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ سیاه اندرونی دیکھئے کہ حق کے دشمن سے کیسی ہمدردی ظاہر کی جاتی ہے۔مشرکین مکہ کے اعتقاد کو ایک جگہ قرآن بیان کرتا ہے ذرہ غور سے سنو۔مشتے نمونہ خروارے۔ایک دو آیتیں سناتا ہوں تو کہ ناظرین کو پتہ لگے کہ مکذب کے کلام میں کہاں تک سچائی پائی جاتی ہے۔