تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 79

تصدیق براہین احمدیہ و بجواب دوم یہ کہیں کہ باری تعالیٰ نے روح کو عناصر سے بنایا تو اس پر آپ کیا اعتراض وارد کر سکتے ہیں؟ غایۃ مافی الباب یہ کہ عناصر چین نہیں اور روح چین ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ان کی خاص ترکیب پر چتنا کا فیض ہوتا ہے جیسے سورج، اگنی ، وایو اور انگرہ کے پر مانو جمع ہونے کے بعد خدائے تعالیٰ وید کو پر کاش کرتا ہے۔اسی طرح عناصر کی خاص ترکیب پر چنا کا فیضان ہوتا ہے۔اور پھر ہم تیسرے سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ ایک مادہ نے حیوانیہ یا نباتیہ یا دونوں قسم کی غذا کھائی ان میں سے ایک حیوانی میٹر اُت پت ہوا اور وہ اس کے رحم میں گیا اور اسی قسم کے مواد سے نر کے جسم میں ایک حیوانی میٹر پیدا ہوا۔جب یہ میٹر جو نر میں پیدا ہوا تھا اس رحم والے میٹر سے خاص حالت اور خاص وقت پر ملا۔اسی ملاوٹ اور اختلاط سے ایک انسانی یا حیوانی روح بن گئی۔غرض عناصر کے عطر اور خلاصہ کا نام روح ہے۔اور مختلف ارواح کی پیدائش کے واسطے مختلف اوقات ہیں جن کو ہم روز اپنے مشاہدہ میں دیکھتے ہیں۔ہم نے اپنے نزدیک راستی اور صفائی سے ان فضول سوالوں کے ( روح کیوں کس چیز سے اور کب بنی ) مختصر مگر معقول جواب دے دیئے ہمیں پورا اعتماد ہے کہ آج کل کا ترقی یافتہ سائنس بھی اس میں ہمارا مؤید ہے۔اگر کوئی انصاف کی آنکھ رکھتا ہو تو خوب غور سے دیکھے۔دلیل نمبر ۴ پر عرض ہے۔قادر مطلق نے ان مقدورات اور مخلوقات کو اس لئے بنایا ہے کہ اس کی مستحکم اور سچی قدرت کے آثار ظاہر ہوں۔اگر اس کی قدرت ہوتی اور اس کی قدرت کے آثار نہ ہوتے تو اس قدرت کا وجود ہی کیا ہوتا ؟ جس طرح روشن چیز کو روشنی دینا ضرور ہے۔اسی طرح قدرت کو اور کامل طاقت کو اپنے مقتضا کے مطابق آثار کا ظاہر کرنا ضرور ہے ہاں اتنا فرق ہے کہ بعضے اشیاء اپنے خواص کے اظہار میں مختار ہوتے ہیں اور بعضے غیر مختار اور مضطر۔باری تعالیٰ کو اپنی صفات کی تاثیرات کے اظہار میں اختیار ہے اور اضطرار نہیں۔جب چاہے ان سے کام لے اللہ تعالیٰ دنیا سے وراء الوراء اور اس سے بائن ہے۔دنیا معہ کل موجودات کے مخلوق اور وہ دنیا کا خالق ہے اور