تصدیق براھین احمدیہ — Page 67
تصدیق براہین احمدیہ ۶۷ مسلم ہیں اور نہ علی العموم عقول سلیمہ کے نزدیک مبرہن اور پسند ہیں۔بلکہ بجز دو تین علوم کے اکثر غلط اور اکثر نہایت مہمل اور سخیم ہیں اور ہرگز معہود اظہار حق کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔خاکسار نے صرف بغرض اظہار حق ان کو مع اپنی کلام کے بیان کیا ہے۔پہلا علم ” جو چیز جہاں ہوتی ہے وہی وہاں سے برآمد ہوتی ہے۔دوسرا علم ” جو چیز جہاں نہیں ہوتی وہ وہاں سے برآمد بھی نہیں“۔مصدق میں کہتا ہوں یہاں اتنا یا در ہے۔تمام ارواح اور ساری اشیاء جو ظاہری وجود میں آئیں اور آتی ہیں اور آویں گی ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود ہیں اور موجود رہیں گی۔اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر موجود ہے اور اس کا علم جو اس کی صفت ہے وہ بھی موجود۔اللہ تعالیٰ کے سچے اور واقعی ست گیان ست و دیا حقیقی علم کے مطابق اس کی کامل قدرت سے وہ اشیاء جو الہی علم میں موجود ہیں اور موجود تھیں حسب اسی تقدیم ، تاخیر اور ترتیب کے خارجی وجود پا کر موجود کہلاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے تھی جو چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود ہے وہی علمی وجود سے برآمد ہوتی ہے۔اور جو چیز وہاں موجود نہیں ہوتی وہ ہرگز ہرگز برآمد بھی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ تمام سموات اور زمین کا خالق اور نور ہے۔وہی تمام سرشٹی اور مخلوق کا پر کا شک ہے۔عدم محض نہ کسی چیز کا خالق اور نہ کسی چیز کا مادہ اور نہ کسی شئی کا جزو نہ عدم محض کوئی مخلوق ہے۔ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود تھی معدوم محض نہ تھی۔علمی وجود کے بعد مخلوق کو اپنے خالق سے بتدریج خارجی وجود عطا ہوتا ہے۔جیسے بقول دیا نندی پنتھ کے پرلے کے وقت اس سرشٹی سے پہلے جو اس پر لے خاص کے بعد ہوگی و ید صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود رہتے ہیں۔پھر جب مرکب سرشٹی یعنی مخلوق پیدا ہوتی ہے اور اگنی ، وایو، سورج اور انگرہ ملہمان وید ( بقول تسلیم کنندگان وید ) کو خدا تعالیٰ نے وجود عطا فرمایا وہ وید علم الہی کے مطابق ان چاروں رشیوں کے گیان میں ظاہر ہوئے اور انہیں کے ذریعہ آج معتقدان وید کے پاس موجود ہیں۔لیکن ان ویدوں کے باری تعالیٰ کے علم کے ورا موجود ہونے نے اس علیم وخبیر ذات کو دیدوں سے بے علم نہیں کیا بلکہ اس وقت بھی وید علم الہی میں ایسے ہی موجود ہیں جیسے پہلے تھے اور مخلوق کے پاس بھی موجود ہیں۔ایسا ہی یعنی ویدوں کی طرح ساری مخلوق کا حال