تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 297

تصدیق براہین احمدیہ ۲۹۷ مسلمان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی عصمت کے قائل ہیں اور جو اعتراض عیسائیوں یہودوں کی تواریخ سے اہل اسلام پر کئے جاتے ہیں ان میں معترضوں کو دھوکا ہے یا وہ دھوکا دیا چاہتے ہیں۔تیسواں جواب۔ہم دیانندی آریہ سے پوچھتے ہیں۔ان کے بزرگ مہاتما نیک مجستہ کر دار تھے اور ہیں۔یا پاپی اور بدکار؟ اگر نیک اور بھلے تھے اور ہیں اور برائی ان میں نہیں تو چاہیے وہ ابدی نجات پا جاویں اور آئندہ اواگون میں جو جہنم اور سزا کا گھر ہے نہ آدیں۔پھر اور لوگ آپ کے محسن، مربی اور بزرگ بن جاویں اور وہ بھی اسی طرح نجات پالیں یہاں تک کہ محدود ارواح کا سلسلہ آخر محدودزمانہ میں ختم ہو جاوے۔پھر سرشٹی کے پیدا ہونے کا سامان ہی خدا کے یہاں نہ رہے۔معاذ اللہ اور بصورت ثانیہ اگر نیک اور بھلے نہیں تو ان میں کوئی بھی قابل اعتبار نہ رہے۔بھلا بد کار کا اعتبار کیا۔اکتیسواں جواب۔میں نے اپنے کانوں بڑے بڑے راجوں مہاراجوں سے سنا اور بتقد بر ماننے مسئلہ تناسخ کے بیچ بھی ہے۔وہ لوگ کہا کرتے تھے تپ دراج اور راجوں نرگ، کیا معنی تپ یعنی ریاضتوں اور سخت سخت اور مشکل عبادتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ریاضت کنندہ ریاضت کے بعد راجہ ہو جاتا ہے پھر راج کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ انسان یعنی راجہ دوزخی ہو جاتا ہے۔اس کلام کا دوسرا جملہ یعنی راجوں نرک اس لئے بھی سچ ہے کہ راجوں اور مہاراجوں سے اکثر ظلم وتعدی ہو جاتی ہے۔ان سے پورا انصاف محال ہے۔پھر عیاشی اور فضولی وغیرہ وغیرہ آفات میں مبتلا رہتے ہیں۔بلکہ میرے جیسا تجربہ کار تو شہادت بھی دے سکتا ہے کہ علی العموم یہ دوسرا جملہ سچ ہو کیونکہ دوزخ کا نمونہ ان میں مجھے دکھائی دیتا ہے۔جسے سفلس ، آتشک، پہاڑی ، روگ، گرمی ، باد، مشجر، مبارک کہتے ہیں۔اہل مصر نے نائیٹریٹ آف سلور کا کیسا خوبصورت نام رکھا ہے۔