تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 249 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 249

تصدیق براہین احمدیہ ۲۴۹ عرب جو دنیا بھر کو ٹھم کا خطاب دیتے تھے کیا نہیں کہہ سکتے تھے ہم مجموں گونگوں کی کب مانیں کس نے عرب کو وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُ وَانِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ کا حکم دے کر فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا (ال عمران: ۱۰۴) کا لقب دیا۔يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعَ (الاعراف: ۱۵۹) کس نے کہا ذرا اس کا نشان دو ! تیسری ضرورت دنیا میں ہمارے سادات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تشریف لائے اور انہوں نے بقدر امکان راستی اور راستبازی کو دنیا میں پھیلایا مگر ان کے ناعاقبت اندیش اور جھوٹے بلکہ ناسمجھ پیروؤں نے ان کی پاک تعلیم میں نافہمیوں کو ملا دیا اور اس میں اختلاف مچایا، ہندؤں نے اللہ تعالیٰ کو معاذ اللہ کئی اوتاروں ، کچھ ، کچھ اور سؤر کی اشکال پر دنیا میں آنا اعتقاد کیا۔عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کے خاکسار بندے حضرت سیدنا مسیح علیہ الصلواۃ والسلام کو خدا یا خدا کا ازلی بیٹا یقین کیا۔بلکہ ان میں رومن کیتھولک نے سیدنا مسیح کی والدہ صدیقہ مریم کو بھی معبود ٹھہرایا۔یہودوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات میں تشبیہ تک نوبت پہنچائی آریہ بے چارے تو یہاں تک گرے کہ باری تعالیٰ کی ہمہ قدرت سرب شکستیمان ذات کو اپنے پر قیاس کر کے کہہ دیا جیسے بدوں میٹر اور مادہ مخلوق میں کوئی شخص کوئی چیز نہیں بنا سکتا۔باری تعالیٰ سے بھی بدوں مادہ کے کسی چیز کا بنا اسنھو اور محال ہے اور اس فاسد قیاس کے باعث کروڑوں کروڑ ذرات عالم کو غیر مخلوق ، کروڑ کروڑ ارواح کو غیر مخلوق کہہ بیٹھے۔ابدی نجات کی سچی طلب ہر سلیم الفطرت کے قلب میں موجود ہے۔اس کے حصول کے واسطے لوگ کیسے بھول بھلیاں میں پڑے ہیں یہود نے تو یقین کر لیا ہم ابراہیم راستباز کے فرزند ہیں صرف اسی رشتہ کے باعث نجات پا جائیں گے جیسے کہتے ہیں کہ کن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً (البقرة: ۸۱)۔لے خدا تعالیٰ کے رستے پر پنجہ ما رو کیا معنی تمام و کمال ظاہر و باطن الہی ارادوں کے پیرو ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ کچھ خدا کے اور کچھ غیر کے بنے رہو اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو تو سوچو! تم کیسے آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔اسلام کے باعث تم سب کے دل ایک ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی ہو گئے ایک دوسرے کے خیر خواہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک۔ے اولوگو! بے ریب میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔گنتی کے دن ہی ہمیں تو آگ چھوٹے گی پھر نجات پا جائیں گے۔