تصدیق براھین احمدیہ — Page 116
تصدیق براہین احمدیہ نہ چلے اور شیطان کا ان پر کوئی زور اور دخل نہ تھا اور نہ شیطان خالق شر تھا نہ اس کا کوئی تسلط آدم علیہ السلام پر تھا۔دیکھو فَإِذَا قَرَأتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَنَّ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ إِنَّمَا سُلْطَنُهُ عَلَى الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ (النحل : ۹۹ تا ۱۰۱) وَقَالَ الشَّيْطَنُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ اِنَّ اللهَ وَعَدَكُمُ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَاخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِي عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطن إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لي فَلَا تَلُومُونِي وَلُوْمُوا أَنْفُسَكُمْ (إبراهيم: ۳۳) ٢٣) قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا ۚ أَغْوَيْنُهُمْ كَمَا غَوَيْنَ تَبَرَّأَنَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا اِيَّانَا يَعْبُدُونَ (القصص: ۶۴) ہاں ایک جگہ شیطان نے کہا ہے۔فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا قَعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (الأعراف: ۱۷) قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا زَيْنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (الحجر : ۴۰، ۴۱) مگر شیطان کی تابعداری وہی کریں اور اس کے قول کو وہی حجت پکڑیں جو اسے مانیں۔لے جب تو قرآن پڑھے راندہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ۔یادرکھو اس کو مومنوں اور اپنے رب پر تو کل کرنے والوں پر کوئی قدرت نہیں۔اس کا بس تو ان پر چلتا ہے جو اسے دوست رکھتے اور اس کے ساتھی ہیں۔جب فتوی لگ چکا شیطان بولا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا۔وعدہ تو میں نے بھی کیا پر خلاف کیا اور میرا تم پر کوئی تصرف نہ تھا ہاں اتنی بات ہے کہ میں نے بلایا تم نے مان لیا سواب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو کرو۔سے ان لوگوں نے جن پر سزا وارد ہوئی کہا اے ہمارے رب یہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے بہکایا۔ہم بھی بہکے انہیں بھی بہکایا تیری ہی دو ہائی ہے یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔تو نے مجھے بہکایا تو ہی اب میں ان کے لئے تیری سیدھی راہ کو گڈ مڈ کروں گا۔اب جو تو نے مجھے راند دیا میں زمین میں بری راہوں کو ان پر سجاؤں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا ہاں تیرے مخلص بندوں پر میراز ورنہ چلے گا۔