تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 99 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 99

تصدیق براہین احمدیہ ۹۹ موتی اور مردہ بے ایمان زندہ ہوتے ہیں۔بلکہ قرآن نے انبیاء اور ملائکہ کو بھی روح فرمایا ہے۔کیونکہ وہ بھی اسی زندگی کے باعث ہیں جسے ایمان کہتے ہیں۔إِنَّمَا المُسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ (النساء :۱۷۲) وَاتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنْتِ وَايَّدْنُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ (البقرة : ۸۸) ان آیات سے ناظرین کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ روح کی حقیقت کو قرآن نے کیسے بیان کیا ہے۔یہ محاورہ روح کی نسبت اگر چہ میں نے قرآن سے ثابت کر دیا ہے اور آفتاب کے سامنے کسی ستارہ کی حاجت نہیں۔مگر مزید تذکرہ کے واسطے کتب سابقہ سے بھی بیان کرتا ہوں۔” پھر جبکہ وہ تسلی دینے والا جسے میں تمہارے لئے باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی روح حق جو باپ سے نکلتی آوے تو وہ میری گواہی دے گا۔یوحنا ۱۵ اباب ۲۶ ” لکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں سچائی کی راہ بتا وے گی۔یوحنا۱۶ باب ۱۳ اس لئے تم سے کہتا ہوں لوگوں کا ہر طرح کا گناہ اور کفر معاف کیا جاوے گا مگر وہ کفر جو روح کے حق میں ہولوگوں کو معاف نہ ہوگا‘ متنی ۲ اباب ۳۱۔اور نیکی کو زندگی اور بدکاری کو موت کہنے کا محاورہ تو اس قدر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عند الشرع یہی حقیقی معنے ہیں۔مگر میں اب اس قصہ میں زیادہ طوالت لا حاصل جانتا ہوں۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ۔میں اگر یہ پوچھا جاوے کہ یہ سوال عیسائیوں اور یہودیوں نے کیوں کیا ؟ تو وجہ ظاہر ہے۔یوحنا کی انجیل میں جیسے سابق گزر چکا اس روح کی آمد کی خبر تھی اور بہت لوگوں کا خیال تھا پس حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ قرآن کریم جسے تو نے بارہا روح کہا ہے کس کی تصنیف ہے تو خود قرآن کریم نے اس کا یوں جواب دیا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا حکم اور اس کا کلام ہے۔اور جو کہا وَمَا أُوتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا اس کے لے اس کے سوا نہیں کہ عیسی بن مریم اللہ کا بھیجا ہوا اور اس کا مخلوق ہے جو مریم کی طرف ڈالا گیا اور اس کی روح ہے پس ایمان لا واللہ پر اور اس کے رسولوں ہیں۔اور ہم نے عیسی بن مریم کو کھلی دلیلیں دیں اور روح پاک سے اس کو قوت دی۔