تصدیق براھین احمدیہ — Page 68
تصدیق براہین احمدیہ ۶۸ ہے جو کبھی صرف علم میں رہی ہے اور کبھی علم اور خارجی وجود دونوں میں موجود ہوتی ہے۔تیسرا اور چوتھا علم۔"جوگل میں ہوتا ہے وہ جزو میں ہوتا ہے جو کل میں نہیں وہ جزو میں بھی ناممکن ہے“۔مصدق۔یہ دونوں علوم متعارفہ نہیں بلکہ محض خیالی اور سراسر غلط اعتقادات ہیں۔کیونکہ ان علوم میں یہ تفصیل نہیں کی کہ کون گل مراد ہے؟ آیا بسیط یا مرکب، مجرد یا غیر مجر دنا نا پر کار کے قوی رکھنے والا اور انواع و اقسام قویٰ کا جامع کل یا ایک قوت کا منشا ؟ مکذب نے کچھ تذکرہ اور تفصیل نہیں کی بلکہ دوسرے دعویٰ کی دلیل سے معلوم ہوتا ہے کہ جزو سے بھی اس نے ہر ایک جز و مراد لی ہے۔کیونکہ وہاں کہا ہے۔اگر ارواح خدا کے ٹکڑے ہیں تو ہر ایک روح خدا ٹھہرتی ہے“۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکذب کا خیال ہے کہ جو کل میں ہے وہ ہر ہر جزو میں ضرور ہوتا ہے۔صادق غور سے کھل سکتا ہے کہ یہ قول غلط ہے۔کیونکہ ہم ایک ایسا گل فرض کرتے ہیں جو چار اجزائے بسیط سے بنا ہے اس کل میں یہ بات موجود ہے کہ اسے ہم کہتے ہیں کہ یہ مرکب ہے۔اس میں چار قسم کی چیزیں موجود ہیں مگر اس کے اجزاء میں یہ بات موجود نہیں اور ایسے کل اور مرکب کے اجزا کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے اس مرکب کا ہر ایک جزو بھی چار قسم کے اجزا سے مرکب ہے۔ایسا ہی بالعکس یعنی چوتھا علم آپ کے علوم متعارفہ سے بھی علی الاطلاق صحیح نہیں کہ ”جو کل میں نہیں جزو میں بھی نہیں“۔ایک بڑا موٹا رسن فرض کرو جو کتنی تاروں سے بنایا گیا ہو اور وہ موٹا۔رسن ایک کمزور آدمی کو دو اور اسے کہو کہ اسے ہاتھ سے کھینچ کر تو و ڈال۔ممکن نہیں کہ وہ کمز ور اس موٹے رسن کو توڑ سکے۔اب رسن کی ایک بار یک تار کو جو اس کی جزو ہے الگ کر لو اور اسی کمزور کو جسے پہلے کہا تھا کہو کہ اس تار کو توڑ ڈالے تو یقیناً وہ کمزور توڑ دے گا۔اب دیکھو وہ چیز ( شکست ) جو گل میں نہ تھی جزء میں پائی گئی اور وہ ٹوٹا جوگل میں ممکن نہ تھا اسی گل کی ہر ایک جزو میں موجود ہے۔ہاں بعض صورتوں میں یہ آپ کا دعوی صحیح ہو سکتا ہے مگر چونکہ آپ نے کوئی تحدید و تفصیل نہیں کی۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا یہ علم متعار ف اپنے عموم اور اطلاق میں صحیح نہیں اور نہ مہر بہن ہے۔