تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 97 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 97

تصدیق براہین احمدیہ ۹۷ یہ ہے کہ اس آیت کے حقیقی معنی سمجھنے میں اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔میں ماقبل اور مابعد کی آیات بھی نقل کرتا ہوں اور کلام الہی کی واقعی تفسیر خود کلام الہی کی رہنمائی سے کرتا ہوں امید ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیاسے حظ وافی اٹھائیں گے۔وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ ۚ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّكَانَ يَوْسًا قُلْ كُلُّ يَعْمَلُ عَلى شَاكِلَتِهِ فَرَبَّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اهْدَى سَبِيلًا وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا وَلَبِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا إِلَّا رَحْمَةً مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمُ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا (بنی اسرائیل: ۸۲تا ۹۰) اب اس امر کے اثبات کے لئے روح سے مراد وہی کلام الہی ہے جس سے ایماناً مردہ ا اور کہہ دے حق آ گیا اور باطل دور ہو گیا یقیناً باطل دور ہونے والا ہی تو تھا۔ے اور ہم قرآن سے مومنوں کے لئے شفا اور رحمت اتارتے ہیں اور ظالموں کو اس سے گھاٹا نصیب ہوتا ہے۔ے اور جب ہم انسان پر فضل کرتے ہیں منہ پھیر لیتا ہے اور اسی (مال) کی طرف ہو جاتا ہے اور جب اس کو دکھ پہنچتا ہے نا امید ہو جاتا ہے۔کہہ دے ہر ایک اپنی طرز پر عمل کرتا ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے اس کو جو سیدھی راہ پر ہے۔۵، اور تجھ سے اس روح ( قرآن ) کی بابت پوچھتے ہیں کہہ دے یہ روح میرے رب کا امر ہے۔اور تم اسے مخالفو! کچھ سمجھتے بوجھتے نہیں۔اور اگر ہم چاہتے یہ کلام جو تجھ پر وحی کیا ہے لے جاتے پھر تجھے ہم سے لینے کے لئے کوئی وکیل نہ ملتا سوا تیرے رب کی رحمت کے یقینا اس کا فضل تجھ پر بڑا ہے۔کے کہہ دے اگر جن وانس اس پر متفق ہو جاویں کہ اس قرآن کی مانند لاویں تو ہرگز نہ لاسکیں گے گو وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جاویں۔ہم نے اس قرآن میں ہر مثال مختلف طرزوں میں بیان کی ہے۔پراکثر لوگوں نے کا فرمتی سے انکار کیا۔