تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 94 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 94

تصدیق براہین احمدیہ ۹۴ اسلام کا بچہ بچہ اور محمد یوں کا مجلسی بھی جانتا ہے کہ موجودہ دنیا اور آئندہ آنے والی اور گزری ہوئی دنیا تمام اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود تھی۔عدم محض کے تو یہ معنے ہیں کہ کسی طرح کہیں بھی اس کا وجود نہ ہو۔حالانکہ دنیا کا علمی وجود تھا اور ہے۔پس مکذب براہین کا یہ کہنا کہ محمدی جواب دیتے ہیں کہ دنیا عدم محض سے وجود میں آئی۔علی العموم صحیح نہ ہوا بلکہ اتہام ہے جو محمد یوں پر لگایا گیا۔جبکہ عدم مادہ کے یہ معنے ہوئے جو ہم نے بیان کئے۔تو آپ کا سوال ہی اٹھ گیا اور محمد یوں کا یہ کہنا۔اپنے سے بنایا“ اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری پیدائش کا باعث اور ہمارا خالق ہے محمد یوں کے اس کلام کے یہ معنے نہیں کہ مخلوق اللہ تعالیٰ کا ٹکڑہ ہے یا اللہ تعالیٰ ہمارا جزو بدن ہے۔یہ آپ کا خیال اور غلط گمان ہے۔اسلامی گروہ اس سے بالکل پاک ہے۔اور آپ کا فرمانا۔مادہ خدا کے قبضہ قدرت 66 میں انادی زمانہ سے موجود ہے۔بے ریب تمام دنیا اور اس کا مادہ ازل سے ابد تک یعنی ہمیشہ سے ہمیشہ اس کے علم اور قدرت میں ہے اور رہے گا۔مگر اس سے انادیت نہیں نکلتی بلکہ ہم کہتے ہیں جیسے ہمیشہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت علم اور قدرت میں ہے اور رہے گا۔ایسا ہی اس کی صفت خلق کے تحت بھی ہے اور رہے گا۔اسلامی گروہ ہندی آریوں کی طرح نہیں کہتا کہ مادہ عالم اور ارواح خدا تعالیٰ کی صفت خلق سے باہر ہیں۔اور چونکہ کوئی جڑھ خود بخود نہ بن سکتی ہے اور نہ بناسکتی ہے۔جیسے آپ نے اپنی اخیری دلیل میں کہا اس واسطے ثابت ہوا کہ مادہ بھی خود نہ بن سکا اور نہ مرکبات کو بنا سکا۔والحمد لله ثم الحمد لله صفحہ ۲۷ سے پھر مکذب صاحب نے روح کی بحث شروع کی ہے۔مجھے اس قصہ سے اب سروکار نہیں رہا۔کیونکہ یہ بحث کہ روح مفرد ہے؟ یا مرکب بقدرضرورت گزرچکی ہے۔اور مکذب نے بھی بجز ایک سنسکرت شلوک کے نقل کر دینے کے اس پر کوئی حکیمانہ بحث نہیں کی۔اور وید کا کلام جسے مکذب نے لکھا ہے کہ روح کو شتر کاٹ نہیں سکتے۔آگ جلا نہیں سکتی۔پانی بھگو نہیں سکتا ہے۔”ہوا خشک نہیں کر سکتی۔وہ مفر د لطیف زندہ ہے“۔بالکل ایک دعوی ہے جو بے دلیل ہے۔