تصدیق براھین احمدیہ — Page 78
تصدیق براہین احمدیہ ZA کہتے ہیں کہ پیدائش کی تین قسمیں ہیں ایک پیدائش خالق کی اپنی مخلوق اور اس مخلوق کے مادہ کو اپنی کامل شکتی (قدرت) سے اور دوم پیدائش اپنی غیر سے جیسی ہماری پیدائش عناصر سے اور سوم پیدائش اپنے آپ سے جیسا تم نے خود بیان کیا۔پس پیدائش کی تین قسمیں ہوئیں۔نہ دو جیسے تم نے لکھی ہیں۔ان تین اقسام میں سے پہلی دوستم کی پیدائش کا ماننا عام مسلمانوں ، پران والوں ،حکما اور فلسفیوں، یہودی اور عیسائی مذہب والوں کا اعتقاد ہے۔تیسری قسم کی پیدائش بھی ان ہی لوگوں سے بعض وحدت وجود اور ویدانتیوں کا اعتقاد ہے۔افسوس ان اقسام میں سے آپ کسی ایک کا بھی ابطال نہ کر سکے۔پس آپ کی دلیل کا پہلا نمبر غلط ہوا۔کیونکہ آپ پیدائش کی گل دوستم مانتے ہیں! حالانکہ نفس پیدائش تین طرح کی ہوتی ہے اور نمبر ۲ میں آپ نے بے وجہ تفصیل لکھی ہے جس کی کچھ حاجت نہ تھی۔پھر آپ فقرہ نمبر ۳ میں لکھتے ہیں۔روح کو کیوں اور کس چیز سے اور کب بنایا ہے؟‘ شق اول کا جواب یہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس لئے پیدا کیا کہ اس کی کمال طاقت اور اعلیٰ درجہ کی قدرت اور اس کی صفات کا مقتضا پورا ہو اور وہ مثمر ثمرات ہوں اور اس لئے بھی کہ انسان ان اشیاء سے فائدہ اٹھائے اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔شق دوم کا جواب یہ ہے کہ اس نے محض اپنی قدرت کے زور سے بدوں کسی مادہ سابقہ کے پیدا کیا۔اگر کہو یہ امر محال ہے۔کیونکہ اگر ممکن ہوتا تو ہم بھی بدوں مادہ بنا سکتے تو یا در ہے وہ انوپیم ہے وہ ہماری مثل نہیں اور اس کی قدرت ہماری قدرت کی مانند نہیں۔جو چیز ہم کو ناممکن معلوم دیتی ہے ضرور نہیں کہ اسے بھی ناممکن معلوم دے وہ قادر مطلق اعلیٰ درجہ کی صفات سے متصف ہے۔وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى۔(الروم: ۲۸) شق سوم کہ اللہ تعالیٰ نے روح کو کب پیدا کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال کچھ روحانی فوائد پر مشتمل نہیں۔اس واسطے کسی الہامی کتاب میں تو اس کا جواب نہیں آیا لیکن اگر ہم جواب میں یہ کہیں کہ جس وقت اور اشیاء کے مواد بنے اس وقت یا اس سے پہلے یا پیچھے روحوں کا بننا بھی شروع ہوا۔تو بتائیے کہ اس جواب میں کیا اشکال ہے؟ اور اس پر کیا اعتراض ہے؟ اگر ہم