تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 70 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 70

تصدیق براہین احمدیہ کوئی نقص عائد نہ ہوگا اور یہ نہ کہا جائے گا کہ ہم میں صفت گویائی ہی نہیں۔اسی طرح دید مثلاً آریہ کے نزدیک خدا کا کلام ہے جو اس نے چار آدمیوں کو سرشٹی کے ابتدا میں سکھایا اب بعد اس زمانے کے وہ خدا متکلم بہ وید کسی آریہ یا آریہ ورتی سے بات نہیں کرتا اور نہ اب کسی کے گیان میں اپنا کوئی اور کلام القایا پر کاش کرتا ہے بلکہ سوائے وید کے اس نے بھی کوئی کلام ہی نہیں کیا اور نہ کسی ملک میں سوائے آریہ ورت کے اس نے کسی کو اپنے مکالمہ اور مخاطبہ سے سرفراز فرمایا۔پس باوجود ایسی خاموشی اور ترک کلام کے آریہ کے نزدیک خدا کی صفت تکلم میں کوئی نقص تسلیم نہیں کیا جاتا۔با اینکہ حسب اعتقاد آریہ اللہ تعالی سوائے ویدک سنسکرت اور چار دید کے نہ کبھی کچھ بولا اور نہ کبھی کچھ بولے گا۔پھر بھی ہرقسم کی زبان میں کلام کرنے کا سرب شکتی مان اور قادر مطلق ہے۔جب صرف وید والی بانی میں کلام کر سکتا ہے اور اس کی صفت کلام صفت قدرت و زبا ندانی میں اسے کوئی نقص نہیں آتا بلکہ وہ ہر طرح پوتر قدوس ہے اور متکلم رہتا ہے تو اگر انسان مخلوق اور موجود نہ ہو اور باری تعالیٰ کو پھر بھی خالق رازق کہیں تو کیا حرج ہے۔کیا اس کا خالق رازق علیم ہونا انسانی ہستی پر موقوف ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں !!! علاوہ بریں ذاتی صفات کے دو معنے ہوتے ہیں۔ایک لوازم ذات یعنی ایسی صفات جو ذات سے کبھی الگ نہیں ہوئیں اور دوسری وہ صفات جو ذات میں موجود ہوتی ہیں۔قدیم کے وہ ذاتی صفات جو تم اول سے ہیں بے ریب قدیم ہیں۔مگر دوسری قسم کی صفات کا قدیم ہونا ضروری نہیں۔مثلاً پنڈت لیکھرام مکذب کی روح حسب اعتقاد لیکھرام کے قدیم ہے۔پر اس کی روح کو پنڈت کے جسم سے جو تعلق ہے وہ بالکل جدید ہے۔گو یہ تعلق اس کی روح کی ذات کو ہے اور اس وقت یہ تعلق خاص اور بالفعل اس کی قدیم روح کی صفت ہے۔مگر یہ صفت قدیم نہیں بلکہ حادث اور غیر قدیم ہے۔کیونکہ یہ تعلق ایک قسم کی سزا ہے اور آواگون کی بنیاد جس کو مکذب نے تکذیب صفحہ نمبرا کتاب میں برا تجویز فرمایا ہے اور ممکن ہے بلکہ یقینی ہے کہ مہان پر لے کے وقت یہ صفت روح میں بالفعل موجود نہ تھی۔اور نہ پھر اور پر لے کے وقت یہ صفت روح میں موجود رہے گی۔