تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 6

تصدیق براہین احمدیہ اور فرمایا - وَمَنْ يَرُغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَهِمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ (البقرة: ۱۳۱) حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے نہایت صحت بخش اور نجات دہ نصائح پر کان نہ رکھنے والے وضع الہی کے دشمن فطرت کی مخالفت میں قومی کو برباد کر نے والے موذنی کدھر گئے؟ ان کی بستی کی یہی خبر ہے جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا - (هود:۸۳) غریب ، سعید اور راستباز حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مصری بادشاہ کے اس سخت ظلم اور تعدی کو دیکھ کر جو اس نے آپ کی قوم پر شروع کر رکھی تھی اس خیال سے کہ جس بادشاہ کی رعایا ہوکر رہے اس سے بغاوت کرنا اہل ایمان اور کچے اسلام والوں کا کام نہیں فرعون شاہ مصر سے درخواست کی اور بجا درخواست کی۔فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَاوِيْلَ وَ لَا تُعَذِّبُهُمْ (طه: ۴۸) پر اس نافہم نے حضرت موسیٰ جیسے مومن ناصح کی عمدہ اور بجا درخواست کی طرف توجہ نہ کی الٹا بنی اسرائیل کو زیادہ تر دکھ دینے لگا بلکہ جناب موسیٰ علیہ السلام جیسے پاک خیر خواہ کی نسبت ناعاقبت اندیشی کے باعث حقارت کی راہ سے کہا۔يُقَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَ هَذِهِ الْأَنْهُرُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِى أَفَلَا تُبْصِرُونَ أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ سُورَةٌ مِنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَيْكَةُ مُقْتَرِنِينَ (الزخرف: ۵۲ تا ۵۴) ے اور ابراہیمی ملت سے کون روگردان ہو سکتا ہے سوائے اس کے جس نے اپنے تئیں احمق ٹھہرایا۔یہ بدکار لونڈے باز تھے نعوذ باللہ۔سے ہم نے اس کو زیر و بالا کر دیا۔ے بنی اسرائیل (میری قوم کو میرے ہمراہ کر دے اور انہیں دکھ نہ دے۔اے میری قوم کیا تم نہیں دیکھتے۔ملک مصر کا میں مالک ہوں اور یہ ندیاں میرے نیچے بہتی ہیں بلکہ میں بہت اچھا ہوں اس ذلیل سے اور یہ تو صاف صاف بول بھی نہیں سکتا۔بھلا کیوں نہ ڈالے گئے اس کو سونے کے کنگن۔اور نہ آئے اس کے ساتھ فرشتے پر باندھ کر۔کنگن اس کے زمانہ میں عزت کا نشان تھا جیسے ہندوستان کی ہندو ریاستوں میں اب بھی۔