تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 49

تصدیق براہین احمدیہ ۴۹ آپ لوگ ویدوں کو عام خلقت کے سامنے رکھتے نہیں اور لوگوں کا لکھا ہوا تر جمہ پسند نہیں کرتے۔بھلا یہ بے انصافی نہیں تو کیا ہے؟ کہ خود تو دنیا کی عام زبانوں میں ترجمہ کرتے نہیں اور جو ترجمے فضلائے یورپ نے کئے ہیں انہیں پسند نہیں کرتے۔باقی یہ خیال کہ تمام دنیا کو اسی سے فیض پہنچا ایک خوش اعتقادی کا خیال ہے خود آریہ ورت کے باشندے علی العموم محروم ہیں۔پنڈت دیا نند جی نے وید کے اشاعت کی کوشش کی مگر اس میں بھی اول تو غیر بلکہ اپنی بھی تو میں محروم رکھی گئیں۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علی العموم مسلمان اور عیسائی تعلیم یافتہ گروہ بھاشا نہیں پڑھ سکتے۔بلکہ ستیارتھ کا ترجمہ بھی وہ اردو حروف میں پسند نہیں کرتے تھے اور اردو میں کیوں لکھواتے ادھر وید کا عام فہم ترجمہ ہوا اُدھر دیکھو اس کا وہ سارا کارخانہ كَأَن لَّمْ يَكُن شَيْئًا ہوا۔دوم۔باری تعالیٰ نے بھی ان کو اتمام ترجمہ کی توفیق نہ دی ساری دنیا کو کب اور کس دن فائدہ پہنچا؟ میں نہایت راستی ،سچائی اور صاف دلی سے چاروں ویدوں کا ترجمہ سننا پسند کرتا ہوں مگر کوئی صورت اتنی بھی نہیں نکل سکتی کہ ایک بار سرسری طور پر ہی سُن سکوں۔جب کوشش کرتا ہوں اور ایک دو دفعہ ایسا ہوا بھی۔تو آریہ مہربان بھائی سنانے والے کی عداوت کو کھڑے ہو جاتے ہیں اپنے دلوں میں جھک کر انصاف کر لو کہ کہاں تک تمہارا دل گوارا کرتا ہے کہ ایک مسلمان وید کی پوری ماہیت سے واقف ہو۔پہلے اتمام حجت کے لئے چاروں ویدوں کا ٹھیک ترجمہ جسے آپ کے عام علماء تسلیم کر تیار کیجئے۔ہم لوگ بھی ویدک اردو ترجمہ میں امداد کے لئے دل سے حاضر ہیں۔پھر آپ کا دعوت دنیا وی کرنا بھی موزوں ہوگا۔مکذب۔وید کے رو سے دو قو میں ہیں۔ایک آریہ اور دوسری دیسیؤ مصدق۔یہی تقسیم تمام دنیا کے مذاہب نے کر رکھی ہے۔بلکہ عام عقل کے نزدیک یہی تقسیم مسلم ہے۔کوئی ویدک خصوصیت نہیں۔دیکھو قرآن کہتا ہے۔( فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ _ الشورى: ۸ ) ( ایک فریق جنتی اور ایک فریق ناری)