تصدیق براھین احمدیہ — Page 48
تصدیق براہین احمدیہ ۴۸ قومی در داور مذہبی محبت کو بعض جاہل عیب شمار کرتے ہیں“۔( برکات اسلام ) مکذب۔تکذیب صفحہ ے۔” پوشیدہ نہ رہے۔اعتراض کرنے سے پہلے فریق ثانی کی کتب کا مطالعہ کرنا شرط اولی ہے مگر وہ معترض نے نہیں دیکھا“۔مصدق۔آپ اپنے ایمان سے کہیئے۔آپ نے عربی زباندانی کی کتابیں کس قدر پڑھی ہیں؟ عربی دواوین اور خطبات میں کتنی مہارت پیدا کی ہے؟ قرآن اور حدیث کا کتنا علم حاصل کیا ؟ مرزا صاحب نے دیا نند جی سے بڑھ کر قدم نہیں مارا جنہوں نے ستیارتھ میں اسلام پر اعتراض کئے۔کیا وہ عربی کے ماہر تھے؟ مجھے یاد ہے میں نے لاہور میں اپنے کان سے سنا کہ دیانند جی فرمارہے تھے کہ رحیم اور کریم لوگوں کی گھڑت ہے“۔تاریخ کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ ایک جگہ ستھ ارتھ پرکاش کے صفحہ تین سو اکیس میں کہتے ہیں کہ ”سلطان محمود غزنوی جب قیدیوں کو مکہ میں لے گیا تو فلاں تکلیف دی !!! سچ پوچھیئے تو مرزا صاحب نے بہت کوشش سے بقدر امکان وید کو دیکھا۔سوامی جی کا ترجمہ چار ویدوں کا با وجود اتنے قومی جوش کے اب تک نا تمام ہے۔اسے کون دیکھ سکے۔جبکہ خود سوامی جی کو عادل اور رحیم نیا کاری خدا نے کامیابی کا منہ نہ دکھایا تو دنیا کی اور غیر قومیں اس ترجمہ سے کب نفع اٹھا سکتی ہیں اور مرزا صاحب اس غیر موجود کو کب دیکھ سکتے ہیں، جو تر جمہ دنیا میں موجود تھا اور آپ کی قوم نے چھپوایا اسے مرزا صاحب نے دیکھ لیا دو ارب کے قریب بقول آپ کے گزرتے ہیں کہ خدا نے ویدوں کو الہام کیا۔پر خدائی کارخانے پر نظر کیجئے کہ دوارب برس میں ویدوں کے تراجم بھی دنیا میں کیا آریہ ورت کے اندر بھی نہیں مل سکتے !! جب اس کتاب کی اشاعت کا یہ حال ہے تو مرزا صاحب کا کیا قصور۔آج تک آریہ ورت کی تین ربع سے زیادہ قومیں شرعا گودہ شرع کیسی صحیح یا غلط کیوں نہ ہو، وید پڑھنے کے لائق خیال نہیں کی گئیں۔تعجب ہے