تصدیق براھین احمدیہ — Page 304
تصدیق براہین احمدیہ ۳۰۴ جب کھولا جاوے یا جوج ماجوج اور وہ ہر اوچان سے پھیلتے آویں“۔پھر کہا ہے۔یہ ترجمہ ذرہ صاف نہیں اس واسطے ہم اس کا انگریزی ترجمہ جو سیل نے کیا ہے یہاں لکھتے ہیں ، پھر انگریزی ترجمہ لکھا ہے۔افسوس آپ کو دعویٰ ہے مگر اتنی سوجھ نہیں کہ مسلمان قرآن کا ترجمہ صاف نہیں کر سکے۔اس لئے آپ کو سیل صاحب کے ترجمہ کی ضرورت پڑی۔خود ہی لفظی ترجمہ کر لیا ہوتا یا کسی مسلمان سے پوچھ لیا ہوتا۔آریو! اگر میں یا کوئی اور مسلمان ولسن ویدک ترجمہ کے رو سے تم پر الزام لگانا چاہے تو کیا انصاف ہوگا۔خیال ہی نہیں انصاف کر لو۔اس آیت کریمہ میں اول حرام کا لفظ تحقیق طلب تھا۔مگر تنقیہ کے مصنف نے جس کا تنقیہ خبط کے واسطے مناسب ہے جو معنی لئے وہی مناسب اور عمدہ ہیں۔اور وہ معنی کیا ہیں۔مقرر ہو رہا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے معنے ”واجب‘ کئے ہیں۔ان معنی کا ثبوت گو تفسیر میں مخاطب کے لئے ضرور نہیں مگر قوم کے واسطے بہت مفید ہو گا۔میں اس معنی کی شہادت قرآن سے دیتا ہوں لے قُلْ تَعَالَوْا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (الانعام: ۱۵۲) دوسر الفظ اس آیت کریمہ میں لَا يَرْجِعُونَ ہے۔جس کے معنی ہیں وہ نہیں پھریں گے۔غور طلب یہ امر ہے کہ کس طرف نہ پھریں گے۔اول۔احتمال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ پھریں گے اور جزا سزا کے واسطے زندہ نہ ہوں گے۔سو یہ معنی تو صحیح نہیں کیونکہ اس آیت کے ماقبل گزر چکا ہے۔كُلٌّ إِلَيْنَا رُجِعُونَ (الانبیاء: ۹۴) اور اس کے معنی ہیں تمام لوگ ہماری طرف رجوع کریں گے۔لے تو کہ، آؤ میں پڑھ دوں تم پر وہ باتیں جو اللہ نے تم پر مقرر کر دی ہیں وہ یہ ہیں کہ مت شریک کرو اللہ کا کسی کو اور والدین سے سلوک رکھو۔