تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 29 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 29

تصدیق براہین احمدیہ ۲۹ واسطے قرآن اور اس کے لانے والے محسن خلق نے یہود اور نصاری کی مقدس کتابوں کو جہاں یاد کیا بڑے انصاف اور راستبازی سے یاد کیا مدح کے الفاظ بولے۔إِنَّا أَنْزَلْنَا الشَّوْرةً فِيْهَا هُدًى وَنُوْرٌ (المائدة: ۴۵) وَاتَيْنَهُ الْإِنجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَنُوْرُ (المائدة: ۴۷) یا در ہے تمام قرآن اور صحیح احادیث میں تو ریت، انجیل اور مجوسیوں کی مقدسہ کتب کی اہانت کا نام ونشان نہیں با اینکہ ان میں انواع و اقسام کا تبدل اور تغیر اور ایزاد ہے۔بلکہ تمام دنیا کی مقدس کتابوں کی نسبت ایسا اشارہ بھی نہیں کیا جس کی نسبت خلاف ادب کا وہم بھی کر سکیں۔حالانکہ اس وقت بہت سی کتابیں اور صحف دنیا میں موجود تھے جو انبیا کی طرف منسوب کئے جاتے۔بلکہ بقول دارا شکوہ کے جس کو آپ نے صفحہ تکذیب نمبری ۷۹ میں نقل کیا ہے۔اپنشد وید کے ضمیمہ یا اس کے خلاصے یا کسی قسم کی تفسیر ) کو بھی قرآن نے کتاب مکنون اور اس کے چھونے والوں کو مطہرون کہا ! گو یہ قول حاشیہ کا محتاج ہے۔قرآن کریم نے تمام مذاہب کے ان معبودوں کی دشنام دہی سے جن کو بت پرست پکارتے ہیں حکما قطعی ممانعت کر دی ہے جہاں فرمایا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الأنعام: ١٠٩) مکذب براہین کے ان عالی جنابوں میں سے جن کی فہرست تکذیب کے صفحہ ۲۹ میں دی گئی ہے۔ایک نے جس کو عربیت کا دعویٰ ہے مجھے فرمایا ” قرآن کریم نے اگر گالی سے منع کیا ہے تو تعجب ہے کہ بتوں کے توڑنے کا کیوں تاکیدی حکم کیا۔اس وقت ان کی خدمت میں کہا گیا کہ لے ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے۔ے ہم نے اسے انجیل دی اس میں ہدایت اور نور ہے۔سے ان کو جنہیں اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں برا مت کہو۔پھر وہ ضد اور نادانی سے اللہ کو بُرا کہیں گے۔