تصدیق براھین احمدیہ — Page 298
تصدیق براہین احمد به ۲۹۸ الحجر الجهنمی میں جب کبھی آتشک کے زخموں پر اس کا استعمال کرتا ہوں اس وقت اس مصری نام کی خوبی جیسی مجھے معلوم ہوتی ہے شاید ایک نا تجربہ کار یا شرائع سے ناواقف کو ہرگز معلوم نہ ہوتی ہوگی۔بتیسواں جواب۔ہم نے مانا آرام و تکلیف اعمال کے ثمرات ہیں۔مگر یہ کیوں نہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اعمال دنیوی اور اسی جنم کے ہیں۔ہاں ثمرات کہنے میں یہ فائدہ بھی ہے کہ جزا سزا میں باعث انعام اور موجب سزا کا علم اور اس کا یاد ہونا ضرور ہے۔ثمرات میں علم اور یا داسباب ضروری نہیں۔غاية ما في الباب ہمیں وہ اسباب وموجبات یاد نہ ہوں سوایسی یادداشت تو تناسخ ماننے والوں کے نزدیک بھی ضرور نہیں۔رہی یہ بات کہ بچہ میں ایسے کون سے اعمال ہیں جن کے باعث بچہ نے سزا بھگتی یا جس کا ثمرہ اٹھایا۔سواس کے سر دست دو جواب ہیں۔اول۔یہ کہ اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ اعمال ہیں جن کا ثمرہ یا جزا لینے میں عامل اور فاعل یا مرتکب کا عاقل و بالغ اور سمجھ دار ہونا جان بوجھ کر قانون قدرت کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونا ضرور نہیں۔مثلاً ایک نادان لڑکا آگ میں ہاتھ ڈال دے۔زہریلا دودھ پلایا جاوے۔ایسی خلاف ورزی میں سزا، جزا، اور شمرہ کا اٹھانا ضرور ہے بہت نہ ہو تھوڑ اسہی مگر ایسی صورتیں اگر قدرے قلیل دکھ دائک اور رنج رساں ہوں تو ان کی تلافی اس اجر عظیم سے ہو جاتی ہے جسے شہادت کا مرتبہ کہتے ہیں۔دوسرے وہ اعمال ہیں جن میں قانون کی خلاف ورزی میں مرتکب جرائم کا عاقل، بالغ، جان بوجھ کر جرم کا مرتکب ہونا ضروری ہے۔ایسے قوانین کو قانون شریعت، قانون حکما، قانون حکام کہتے ہیں۔پس لڑکے قانون قدرت کی خلاف ورزی میں گرفتار ہیں انہوں نے خود کی ہے یا ان کے والدین اور مربیوں نے۔