تصدیق براھین احمدیہ — Page 290
تصدیق براہین احمدیہ ۲۹۰ مگر اول تو وہ ایک عالم مثال کے عجائبات اور اس کی نیرنگیوں کی ایک بات ہے۔دوم اس وقت کو بہت تھوڑا سا وقت سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی غور کرو آج تک اس کا کتنا اثر باقی ہے کہ تمام ارواح کی فطرت میں اس اثر کے باعث باہمہ اختلاف ادیان وازمان اور تباغض و تحاسد کے اس بات پر قریباً اتفاق ہے کہ ہمارا کوئی رب ہے۔چاہے کوئی اسے اللہ کہے کوئی یہوواہ کوئی اونگ کہے، کوئی میز دان۔کسی کی زبان پر دہر کے نام سے موسوم ہوا کسی کے دہن پر شکتی کے نام سے۔انبیاء علیہم السلام کو لوگوں نے دیکھا ان کے عجائبات معجزات کو مشاہدہ کیا مگر ان کے منکر رہے۔اور باری تعالیٰ کو بن دیکھے یہاں یوں مان لیا کہ گویا وہ عیاں ہے۔دلائل سے یہ اتفاق ہرگز مت سمجھو کیونکہ ہم روز مرہ دیکھ رہے ہیں۔مباحث اور دلائل سے متخاصمین میں جھگڑا اور عناد بڑھتا ہے نہ اتفاق۔بات یہی ہے کہ کبھی کانوں نے اپنے خالق و فاطر کی آواز سن لی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ کیسی کیسی پر تکلیف عبادات کی طرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے پر متوجہ ہیں۔کیا ایسی جان کا ہی اور اس طرح کی محبت بدوں کسی تجلی دیکھنے کے صرف شنید سے ہے؟ نہیں نہیں۔ایسا ہوتا تو نا دیدہ حسینوں کے حسن کو سن کر لوگ ایسے ہی عشق میں مبتلا ہوتے جیسے حسینوں کو دیکھ کر جانباز عشاق کا حال ہو رہا ہے۔وَ لَيسَ الخَبُرُ كَالْمُعَايَنَةِ(المستدرك للحاكم كتاب التفسير تفسير سورۃ الاعراف) ایک سلیم الفطرت ہمارے سید و مولیٰ کا مقولہ عَلى قَائِلِهَا الصَّلوةَ وَالسَّلَام بالکل سچ ہے۔اس تحقیق پر یقین واثق ہے۔بے ریب کبھی ارواح کو تجلی الہی کی سعادت حاصل ہو چکی ہے گو اس عالم میں نہ سہی عالم مثال میں سہی۔اور گو اس وقت ہمارے جسمانی ذرات اس قدر عظیم و کبیر ہوں جیسے اس وقت ہیں بلکہ اگست کے وقت نہایت چھوٹے اجسام ہوں۔ستر ہواں جواب۔ابدی نجات اور دائمی آرام کا حاصل کرنا تمام صحیح الفطرۃ ارواح کا تقاضا