تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 28

تصدیق براہین احمدیہ ۲۸ راہ میں بکثرت موجود ہیں۔پر انصاف اور راستی بھی اگر کوئی مثمر برکات ہے تو حق کے لینے میں بھی کوئی روک نہیں۔دنیا میں بہ سبب اختلاف مذاہب اور عادات کے بے شک وریب یہ مرض پھیلا ہوا ہے کہ ایک مذہب کا پابند دوسرے مذہب والے کو برانہیں بہت ہی برا کہتا ہے اپنے مذہب اور اپنے مذہب والوں کے سواد دوسرے مذہب اور دوسرے مذہب والوں میں کسی خوبی کا وجود تسلیم نہیں کرتا ! شدت غیظ و غضب میں غالب اشخاص ہمیشہ اپنے مقابل کو یہی کہتے ہیں تو کچھ راہ پر نہیں، افسوس؟ کئی مسلمانوں نے بھی باہمی جھگڑوں میں بخلاف حکم قرآنی یہی طرز اختیار کر رکھا ہے۔مگر قرآن اسلامیوں کے اعلیٰ درجہ کی مریلٹی اور وز پو سکھانے کے واسطے یہود اور عیسائیوں کے اس بُرے برتاؤ کو بیان کرتا ہے جو ہٹ اور ضد اور جہالت کا لازمہ ہے۔کیونکہ اسلامی تعلیم کے وقت بھی دونوں قومیں مدعی اتباع کتاب اللہ اور مدعی علوم حقہ ابتداء جناب خیر خواہ انام علیہ التحیة والسلام کے سامنے موجود تھیں جس سے غرض یہ ہے کہ پیروان قرآن کریم بلکہ خواہشمندان راستی اور راستبازی اُس بُری طرز سے محفوظ رہیں۔وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصُرُى عَلَى شَيْ وَقَالَتِ النَّصْرِى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَبَ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (البقرة : ۱۱۴) یہود نے کہا عیسائی کچھ راہ پر نہیں اور عیسائیوں نے کہا یہود کچھ راہ پر نہیں۔حالانکہ ممکن ہے بلکہ واقعی یوں ہے کہ عیسائیوں میں بہت سی خوبیاں ہوں۔پس یہود کا عام طور پر یہ کہنا کہ عیسائی کچھ راہ پر نہیں غلطی اور نا سمجھی ہے۔ایسا ہی ممکن ہے بلکہ واقعی ہے کہ یہود میں کچھ بھلائی بھی ہو۔پس عیسائیوں کا علی العموم یوں کہہ دینا کہ یہود کچھ بھی راہ پر نہیں بڑی نا سمجھی اور بے انصافی ہے۔غرض علی العموم کسی مذہب کو یوں کہہ دینا کہ وہ بالکل ہی بھلائی سے مبرا ہے کوئی علمی بات نہیں۔اس لے اور یہود کہتے ہیں نصاری کچھ بھی نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں۔یہود کچھ بھی نہیں۔حالانکہ وہ کتاب (مقدس) کو پڑھتے ہیں نا دان ایسا ہی کہا کرتے ہیں۔