تصدیق براھین احمدیہ — Page 270
تصدیق براہین احمدیہ ۲۷۰ فرشتوں کو رب النوع کہنا قرآن کریم کا حکم نہیں اسلامیوں کا اعتقاد نہیں۔قرآن کریم تو مخلوقات میں کسی کو رب کہنا جائز نہیں بتلاتا۔جیسے فرماتا ہے۔وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِن دُونِ الله (ال عمران: (۶۵) تکذیب کے صلہ نمبر ۸۶ میں شخصی بحث ہے جو اس حصہ میں ہم نہیں کرتے۔کیونکہ یہ حصہ خالص اسلام کے متعلق ہے تکذیب کے صفحہ نمبر ۸۶ سے نمبر ۹۴ تک کوئی دلچسپ بحث نہیں۔اس لئے اس کا ہم ذکر ہی نہیں کرتے۔البتہ صفحہ نمبر ۹۲ میں تکذیب کا وہ فٹ نوٹ جس کا خلاصہ یہ ہے که حسب اعتقاد یہودو عیسائی ، اہل اسلام، بنی اسرائیل کے سوا کسی قوم میں کوئی پیغمبر کتاب لے کر نہیں آیا۔“ ذکر کے قابل ہے۔اس اعتقاد کے اثبات میں ( اگر چہ مسلمانوں کا اعتقاد نہیں) مکذب نے جو اشارہ کیا ہے۔وہ یہ تین آیتیں ہیں۔اوّل وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرة: ۱۳۷) ووم ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ ( ال عمران: ۱۸۳) وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ سوم وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا (المائدة: ٢١) مگر مکذب ، یا درکھیں کہ ان آیات میں حصر و تخصیص کا کوئی لفظ نہیں آیا۔بلکہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر:۲۵) وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ (الشعراء: ۲۰۹) تکذیب صفحہ نمبر ۸۵ ”جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ممبران آریہ سماج ہمیشہ اخلاق و محبت کے ساتھ غیر مذہب والوں سے گفتگو کرتے ہیں“۔